برٹش اوپن: ’توقعات اور دباؤ میں اضافہ ہوگیا تھا‘

جہانگیر خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جہانگیر خان نے 22 اپریل 1991 میں کھیلے گئے فائنل میں ہم وطن جان شیرخان کو شکست دے کر مسلسل دسویں بار یہ ٹائٹل اپنے نام کیا

آج سے 23 سال قبل اسی روز اسکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیرخان نے برٹش اوپن کا اعزاز مسلسل دسویں مرتبہ جیتا تھا۔

جہانگیر خان کو بین الاقوامی اسکواش کو خیرباد کہے کافی عرصہ ہوچکا ہے لیکن اپریل کے مہینے میں ان کی کیفیت اس بچے کی طرح ہوجاتی ہے جو کھلونے کو دیکھ کر پرجوش اور جذباتی ہوجاتا ہے۔

بدترین کارکردگی، تین کھلاڑیوں پر پابندی

’غیرت کے نام پر سکواش کھیلی‘

جہانگیرخان بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میرے لیے جیسے یہ کل ہی کی بات معلوم ہوتی ہے۔ آج بھی اپریل کا مہینہ آتے ہی میں برٹش اوپن کے سحر میں کھوجاتا ہوں۔‘

’اس ایونٹ سے میری جذباتی وابستگی رہی ہے شاید اس لیے بھی کہ ہمارے بڑوں نے اپنے دور میں اس ٹورنامنٹ میں اپنی بالادستی قائم کررکھی تھی جس کے بعد ایک طویل عرصے تک کوئی بھی پاکستانی یہ ایونٹ نہیں جیت سکا تھا جب میں نے جیتنا شروع کیا تو مجھے اس وقت اندازہ نہیں تھا کہ میں ریکارڈ قائم کروں گا لیکن ایک خواہش تھی جو مجھے اس ریکارڈ کے قریب لے جاتی رہی۔‘

واضح رہے کہ جہانگیر خان سے قبل سب سے زیادہ آٹھ مرتبہ برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ آسٹریلیا کے جیف ہنٹ کا تھا۔

جہانگیرخان نے 1990 میں آسٹریلیا کے راڈنی مارٹن کو ہرا کر ہنٹ کا ریکارڈ توڑا اور پھر 22 اپریل 1991 میں کھیلے گئے فائنل میں ہم وطن جان شیرخان کو شکست دے کر مسلسل دسویں بار یہ ٹائٹل اپنے نام کیا۔

’جب میں ہنٹ کا ریکارڈ توڑنے کے قریب آرہا تھا تو اس وقت پوری قوم کی توقعات میں بے پناہ اضافہ ہوگیا تھا اور مجھ پر بہت زیادہ دباؤ تھا۔‘

وہ کہتے ہیں ’مجھے یاد ہے میں نے راڈنی مارٹن کے خلاف تین فائنلز بہت سخت کھیلے تھے اور جان شیر خان کے خلاف آخری فائنل بھی چار گیمز کا تھا۔ یہ دونوں بہت ہی سخت جان حریف تھے لیکن برٹش اوپن کے لیے میں خاص محنت کرتا تھا سخت ٹریننگ کرتا تھا اور ٹریننگ کے لیے میں نے چند ٹورنامنٹس بھی چھوڑے۔ یہی وجہ ہے کہ میں مسلسل دس سال یہ ٹائٹل جیت کر اسکواش کورٹ سے رخصت ہوا۔‘

جہانگیرخان کو اب اس بات کا بہت دکھ ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی کھلاڑی برٹش اوپن میں دکھائی نہیں دیتا۔

’میرے بعد جان شیر خان نے چھ بار برٹش اوپن جیتی لیکن پھر یہ شاندار روایت بھی ختم ہوگئی آج کوئی بھی پاکستانی برٹش اوپن کے پہلے راؤنڈ تک نہیں پہنچ پاتا اور کوالیفائنگ راؤنڈ میں ہی ہارجاتا ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ موجودہ کھلاڑی عالمی رینکنگ میں پچاس اور ساٹھ نمبر پر ہونے پر ہی خوش دکھائی دیتے ہیں۔‘

جہانگیر خان کو البتہ اس بات کی خوشی ہے کہ اسکواش کے بین الاقوامی کھلاڑیوں کی تنظیم پی ایس اے نے پاکستان میں غیرملکی کھلاڑیوں کی آمد پر عائد پابندی اٹھالی ہے ۔

جہانگیر خان کے بقول ’یہ خوش آئند بات ہے کہ یہ پابندی اٹھالی گئی ہے۔ دوسال قبل میں ایشین ماسٹرز کے انعقاد کے موقع پر ماضی کے متعدد عالمی چیمپینز کو لاہور لایا تھا جن میں جیف ہنٹ راس نارمن جوناتھن پاور اور رامی آشور شامل تھے جنہوں نے عالمی اسکواش کو یہ بتایا کہ پاکستان اتنا غیرمحفوظ نہیں جتنا بتایا جاتا ہے۔‘

’فیڈریشن بھی اس سلسلے میں کوششیں کررہی تھی۔ امید ہے کہ پچیس ہزار ڈالرز کے ایونٹ سے ابتدا ہونے کے بعد یہاں بڑے مقابلے دوبارہ منعقد ہوسکیں گے۔

اسی بارے میں