باکسر عامر خان تین مئی کو کولازو کے مد مقابل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عامر خان دو بار لائٹ ویٹ چیمپیئن رہ چکے ہیں

دو بار عالمی چیمپيئن رہنے والے پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان لاس ویگاس میں تین مئی کو لوئی کولاز کے خلاف اپنے ویلٹر ویٹ کریئر کا آغاز کر رہے ہیں۔

اس سے قبل انھوں نے لائٹ ویلٹر ویٹ (کم وزن والے) درجے میں عالمی خطاب حاصل کیا تھا۔ ویلٹر ویٹ درمیانہ وزن سے کم ہوتا ہے اور اولمپکس نے اس درجے کو 64 کلو گرام سے 69 کلو گرام وزن کے درجے میں رکھا ہے۔

پہلے ان کی خواہش تھی کہ وہ فلوئڈ مےویدر کے مد مقابل ہوتے لیکن امریکی باکسر مےویدر نے ان کے بجائے ارجنٹائن کے باکسر مارکوز میدانا سے مقابلے کو ترجیح دی۔

تاہم عامر خان کا کہنا ہے کہ وہ اس مقابلے سے مےویدر کو لالچ دینے کی کوشش کریں گے۔

انھوں نے کہا: ’میں جو بہترین چیز کر سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ مقابلہ کروں اور عوام کو جوش میں لاؤں۔ آپ مجھ سے اسی کی امید رکھیں۔‘

واضح رہے کہ بولٹن کے رہنے والے 27 سالہ عامر خان نے ایک سال کے دوران کسی سے مقابلہ نہیں کیا ہے۔ انھوں نے اس سے قبل شیفیلڈ میں گذشتہ سال اپریل میں میکسیکو کے جولیو ڈیاز سے زبردست مقابلہ کیا تھا۔

گذشتہ دسمبر میں خان نے آئی بی ایف کے ویلٹر ویٹ چیمپیئن ڈیون الکزینڈر کی جانب سے مقابلے کی پیشکش کو مسترد کر دیا تھا تاکہ وہ مےویدر کے خلاف باکسنگ کے اپنے خواب کو پورا کر سکیں۔

بہرحال مےویدر نے دعوی کیا ہے کہ عوام نے ووٹ کے ذریعے ان کے خلاف میدانا کو منتخب کیا ہے اور اس طرح عامر خان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔

تاہم خان کا کہنا ہے کہ اتنے دنوں تک رنگ سے غائب رہنے کے دوران ان کے ٹرینر ورجل ہنٹر نے انھیں بہتر باکسر بنا دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ ایک یکسر مختلف عامر خان کو دیکھیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ مجھے اس وزن والے درجے سے ہم آہنگ محسوس کریں گے۔ اس سے قبل جب میں لائٹ ویلٹر ویٹ درجے میں تھا تو اپنے آپ کو مار رہا تھا جیسے میں خود سے بھی لڑ رہا تھا اور اپنے حریفوں سے بھی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس درجے میں وہ زور دار مکے لگاتے ہیں اور اس کا مجھے بھی فائدہ ہوگا کیونکہ میں خود کو کمزور نہیں کر رہا ہوں گا۔ ہمیں پہلے ہی اس درجے میں آجانا چاہیے تھا۔‘

تین مئی کو عامر خان کے مد مقابل امریکی باکسر کولازو ہوں گے۔ بائیں ہاتھ کے اس باکسر کا کہنا ہے کہ خان کے خلاف مقابلہ یا تو ’بنا دےگا یا توڑ کر رکھ دے گا۔‘

33 سالہ باکسر نے کہا اس مقابلے میں ’میرا پورا کریئر میرے سامنے ہے۔ اگر میں عامر کو شکست دے دیتا ہوں تو میرے لیے باکسنگ میں اچھا مستقبل ہے اور اگر کامیاب نہیں ہوتا تو مجھے از سر نو نیچے سے شروع کرنا ہوگا۔

’اس جیت کے بعد میں مےویدر سے لڑنے کی قطار میں آ جاؤں گا لیکن ابھی میرا فوکس صرف عامر پر ہے۔‘

پانچ درجوں میں عالمی چیمپیئن 37 سالہ مےویدر اپنے ڈبلیو بی سی اور ڈبلیو بی اے خطاب کا دفاع کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں