’پاکستان، بھارت اور سری لنکا ہم سے کھیلیں‘

Image caption افغانستان کسی ملک سے مالی مدد نہیں چاہتا صرف تکنیکی سپورٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ چاہتا ہے

افغانستان کی کرکٹ ٹیم یکم مئی سے کوالالمپور میں شروع ہونے والی ایشین کرکٹ کونسل پریمئر لیگ میں حصہ لے رہی ہے۔

اس سات روزہ لیگ میں افغانستان کے علاوہ متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ، ملائشیا، نیپال اور اومان کی ٹیمیں شامل ہیں۔

افغانستان نے اس ایونٹ کی تیاری کراچی شہر سے دور واقع عربین سی کنٹری کلب میں کی جہاں تقریباً دو ہفتے کے کیمپ میں پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز عامر سہیل اور راشد لطیف نے بھی افغان کرکٹرز کو بیٹنگ بولنگ اور وکٹ کیپنگ کے بارے میں اپنے وسیع تجربے سے آگاہ کیا۔

افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد نبی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کی ٹیم کی متواتر اچھی کارکردگی کے سبب اب لوگوں کی توقعات بڑھ گئی ہیں اس لیے دباؤ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ افغانستان کی ٹیم نے پہلی بار ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔ یہ اتنا آسان نہ تھا کیونکہ اس کے لیے آخری چھ کے چھ کوالیفائنگ میچز جیتنے تھے جو افغان ٹیم نے جیتے۔

محمد نبی نے کہا کہ ان کی ٹیم کو ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے ون ڈے انٹرنیشنل میچز کھیلنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کراچی میں ٹیم کی ٹریننگ کو فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اے سی سی لیگ میں کامیابی حاصل کریں کیونکہ ایسوسی ایٹ ممالک میں افغانستان کا شمار بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے۔

افغانستان کی ٹیم کے کوچ کبیر خان کا کہنا ہے کہ اس کیمپ کا ان کے کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہوا جن کی اکثریت نئے کھلاڑیوں کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے آٹھ کھلاڑیوں کو ڈراپ کرکے انڈرنائنٹین اور اے ٹیم کے کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا بھی پتہ چل سکے اور اگر ان میں سے دو تین اچھے کھلاڑی مل جائیں تو انھیں ورلڈ کپ کے لیے جو منصوبہ بندی کی جارہی ہے اس میں شامل کیا جاسکے۔

کبیر خان کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان کی ٹیم کے سینیئر کھلاڑیوں کی عمریں تقریباً ایک جیسی ہیں اور انھیں پتہ ہے کہ جب کئی کھلاڑی ایک ساتھ ٹیم سے جاتے ہیں تو خلا پیدا ہوجاتا ہے اور اس چیز نے بڑی سے بڑی ٹیموں کو بھی متاثر کیا ہے لہذا وہ چاہتے ہیں کہ ہر کھلاڑی کا متبادل موجود ہو۔

کبیر خان نے کہا کہ افغانستان کی ٹیم جتنے زیادہ انٹرنیشنل میچز کھیلے گی اس کا ان کے کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا کیونکہ اس وقت ان کی ٹیم کو انٹرنیشنل کرکٹ کم مل رہی ہے جس کا نقصان اس وقت ہوتا ہے جب وہ بڑے مقابلوں میں شرکت کے لیے جاتی ہے جہاں کیمروں کراؤڈ اور بڑی ٹیموں کا پریشر خاص طور پر بیٹنگ میں پریشان کرتا ہے۔

جتنی زیادہ انٹرنیشنل کرکٹ افغانستان کو ملے گی اس طرح کے دباؤ سے اس کے کھلاڑی نکل آئیں گے۔

کبیر خان نے کہا کہ انگلینڈ کے گرد تین ایسوسی ایٹ ممالک ہالینڈ اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ ہیں اور جو بھی ٹیم انگلینڈ جاتی ہے وہ ان تین ملکوں کے خلاف بھی ضرور کھیلتی ہے لیکن افغانستان کےساتھ ٹیسٹ رکنیت رکھنے والے چار ایشیائی ممالک تک کھیلنے کو تیار نہیں۔ ان چاروں ملکوں کی بھی تو ان کے ابتدائی دور میں کسی نہ کسی نے حوصلہ افزائی کی ہوگی؟

افغانستان کسی ملک سے مالی مدد نہیں چاہتا صرف تکنیکی سپورٹ اور انٹرنیشنل کرکٹ چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں کرکٹ بہت کم وقت میں مقبول کھیل بن چکا ہے اس وقت تقریباً پانچ لاکھ کرکٹرز بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔

سکولوں میں کرکٹ کو نصاب کے طور پر شامل کرلیا گیا ہے۔ کلب کرکٹ کو منظم کیا گیا ہے اور ایک خاص طریقہ کار کے تحت نوعمر بچے اور لڑکے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے قومی ٹیم میں آئیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسکولوں میں کرکٹ کو نصاب کے طور پر شامل کرلیا گیا ہے

اسی بارے میں