’زندگی بھر اداروں سے کھایا اب انھی کے دشمن‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں اداروں کا کردار محدود کر کے ریجنل یا علاقائی ٹیموں کی مالی کفالت انھی اداروں سے کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا ہے اس پر اداروں نے تحفظات ظاہر کر دیے ہیں اور کئی سابق ٹیسٹ کرکٹروں نے بھی اسے ملکی کرکٹ کو تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر اقبال قاسم کا بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہنا ہے کہ وہ کرکٹر جو ساری زندگی ڈپارٹمنٹل کرکٹ سے کھاتے رہے، مراعات لیتے رہے اور اسی کی وجہ سے کرکٹ بورڈ تک پہنچے، آج اسی ڈپارٹمنٹل کرکٹ میں کیڑے نکال رہے ہیں۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اقبال قاسم پاکستان کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کے لیے قائم کردہ کمیٹی میں بھی شامل ہیں لیکن انھوں نے واضح کردیا ہے کہ اگر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا تو وہ اس کا حصہ بننے کے بجائے کرکٹ بورڈ سے الگ ہونے کو ترجیح دیں گے۔

اقبال قاسم نے کہا کہ ماضی میں بھی کرکٹ بورڈ میں طویل عرصے سے موجود اعلیٰ افسران ہر نئے چیئرمین کو اس طرح کے منصوبے پیش کرتے رہے ہیں جن کا مقصد ادارتی کرکٹ ختم کرنا رہا ہے۔

پاکستان کی طرف سے 50 ٹیسٹ میچوں میں 171 وکٹیں حاصل کرنے والے اقبال قاسم نے کہا کہ اس پورے معاملے میں وزیراعظم کے سامنے غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے اور اگر پاکستانی کرکٹ میں اداروں کا موجودہ کردار تبدیل کردیا گیا تو اس کے خوفناک نتائج سامنے آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ریجنل کرکٹ کا اصل کام کلب کی سطح پر کھیلی جانے والی کرکٹ کو منظم انداز میں چلانا ہے اس کے بعد جو بھی کھلاڑی سامنے آتا ہے ڈپارٹمنٹس اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اداروں نے ان کرکٹروں کو ملازمتیں دے کر ان کا مستقبل بہتر کرنے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔

اقبال قاسم نے کہا کہ ’اداروں کا اپنا سسٹم اور پالیسی ہے، یہ ادارے صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ دوسرے کھیلوں کو بھی سپانسر کرتے ہیں، وہ کسی بھی صورت میں کسی مخصوص ریجن کو اسپانسر نہیں کر سکتے ۔ان کے اپنے لڑکے کہاں جائیں گے؟‘

اقبال قاسم نے کہا کہ ماضی میں بھی کرکٹ بورڈ نے ریجنل سربراہ بناتے ہوئے کئی لوگوں کو مراعات دیں، 16 سو سی سی کی گاڑیاں دیں، لیکن اس سب کا کیا ہوا؟ اس سے کرکٹ کو کتنا فائدہ ہوا؟ لہٰذا ضروری ہے کہ ریجنل کرکٹ کا راگ الاپنے والے پہلے سسٹم کو بہترین شکل دیں پھر اسے نافذ کریں۔

اسی بارے میں