آؤ کپتان کپتان کھیلیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ورلڈ کپ اب صرف چند ماہ کی دوری پر ہے اور ایسے وقت میں کپتان کی تبدیلی کے منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں

جدید دور میں محلاتی سازشوں کی تصویر کشی کرنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ میں کبھی چیئرمین کی کرسی خواہش مندوں کی آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے تو کبھی کپتان کا عہدہ منہ میں پانی لے آتا ہے۔

چیئرمین کا میوزیکل چیئرگیم تو ہو چکا، اب کپتان کپتان کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کی جانب سے یہ اعلان ہو چکا ہے کہ مصباح الحق سنہ 2015 کے ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے کپتان ہوں گے، لیکن کچھ لوگوں کو یہ فیصلہ پسند نہیں آیا اور وہ وقتاً فوقتاً نجم سیٹھی سے استفسار کرتے رہتے ہیں کہ کیا واقعی ورلڈ کپ میں مصباح الحق ہی کپتان ہوں گے؟

نجم سیٹھی بھی مسکراتے ہوئے ’ہاں‘ میں جواب دے کر ان تمام لوگوں کے ارمان ٹھنڈے کر دیتے ہیں جو مصباح الحق کو پہلے مرحلے میں ون ڈے اور دوسرے مرحلے میں ٹیسٹ کا کپتان دیکھنا نہیں چاہتے۔

لیکن اس بار نجم سیٹھی کو ایک مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ میڈیا اور سابق ٹیسٹ کرکٹروں کی بجائے اس بار کپتان کی تبدیلی کی خواہش اور اس کا اظہار خود نجم سیٹھی کے مقرر کردہ چیف سلیکٹر معین خان کی جانب سے ہوا ہے جو کرکٹ کے حلقوں میں ان دنوں چیئرمین کے سب سے قابلِ اعتماد شخص کے طور پر مشہور ہیں۔

معین خان نے اپنی سربراہی میں قائم سلیکشن کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد صحافیوں کے روبرو ون ڈے کی کپتانی میں ممکنہ تبدیلی کی بات کر کے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تبدیلی کے بارے میں غور و خوص ضرور ہوا ہے، لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور یہ اتفاق رائے سے ہوگا، لیکن اسی وقت ہوگا اگر اس میں بہتری نظر آئے گی۔

ظاہر ہے معین خان کی اس بات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی کو اس معاملے کی نزاکت کا احساس پہلے سے ہے لہٰذا انھوں نے اس تازہ ترین صورت حال کو قابو میں کرنے کی کوشش کے طور پر ٹوئٹر پر یہ بات واضح کر دی:

’سلیکٹروں کا کام صرف ٹیم منتخب کرنا ہے۔ سلیکٹروں اور کپتان کا انتخاب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کرتے ہیں اور میں مصباح الحق کو پہلے ہی ورلڈ کپ تک کپتان بنانے کا فیصلہ کرچکا ہوں اور اس فیصلے پر قائم ہوں۔‘

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو بات نجم سیٹھی کر رہے ہیں کیا وہ انھی کے مقرر کردہ سلیکٹر حضرات اور خاص کر چیف سلیکٹر کو نہیں معلوم؟

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پالیسی معاملات پر اگر کسی کی ذاتی رائے بھی ہو تب بھی کیا وہ میڈیا کے سامنے لائی جاسکتی ہے؟

سب سے اہم بات یہ کہ کیا نجم سیٹھی اس معاملے کو محض چیف سلیکٹر کی ذاتی رائے سمجھ کر نظرانداز کر دیں گے یا چیف سیلیکٹر سے ان کے بیان کی وضاحت بھی کی جائے گی؟

خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کپتانی کے معاملے پر بیان دینے پر شاہد آفریدی کو بھی اظہارِ وجوہ کا نوٹس دے چکا ہے۔

ورلڈ کپ اب صرف چند ماہ کی دوری پر ہے اور ایسے وقت میں کپتان کی تبدیلی کے منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ماضی میں پاکستان کرکٹ بورڈ مصباح الحق کو ٹی ٹوئنٹی سے دور کر کے محمد حفیظ کو کپتانی دینے کا نتیجہ حالیہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں دیکھ چکا ہے۔

اسی بارے میں