عامر خان کا جیت سے اپنے ویلٹر ویٹ کریئر کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عامر خان ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد رنگ میں لوٹے اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے

دو بار عالمی چیمپيئن رہنے والے پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے ویلٹر ویٹ میچ میں لاس ویگاس میں لوئی کولاز کو واضح انداز میں شکست دے دی۔

اس طرح عامر خان نے کولاز کے خلاف فتح کے ساتھ اپنے ویلٹر ویٹ کریئر کا آغاز کیا ہے۔

اس سے قبل انھوں نے لائٹ ویلٹر ویٹ (کم وزن والے) درجے میں عالمی خطاب حاصل کیا تھا۔ ویلٹر ویٹ درمیانے وزن سے کم ہوتا ہے اور اولمپکس نے اس درجے کو 64 کلو گرام سے 69 کلو گرام وزن کے درجے میں رکھا ہے۔

عامر خان اس درجے کے مایہ ناز باکسر فلوئڈ مےویدر کے مد مقابل ہونے کی خواہش رکھتے تھے لیکن امریکی باکسر مےویدر نے ان کے بجائے ارجنٹائن کے باکسر مارکوز میدانا سے مقابلے کو ترجیح دی۔

تاہم 27 سالہ عامر خان کا کہنا ہے کہ وہ اس مقابلے سے مےویدر کو لالچ دینے کی کوشش کریں گے۔

بہرحال مبصرین کا خیال ہے کہ ابھی عامر کو مے ویدر کے مد مقابل آنے سے قبل مزید کچھ میچز کھیلنے چاہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عامر خان نے اپنے حریف امریکی باکسر لوئی کولازو کو واضح انداز میں شکست سے دوچار کیا

عامر خان کو تمام ججوں نے کامیاب قرار دیا۔ دو ججوں نے انھیں 104 کے 119 پوائنٹس دیے جبکہ ایک جج نے 106 کے مقابلے 117 پوائنٹس دیے۔ اس سے واضح ہے کہ عامر رنگ میں کس قدر چھائے ہوئے تھے۔

عامر خان پہلے راؤنڈ سے ہی حاوی رہے۔ اور تقریبا ہر دور میں انھوں نے اپنے حریف پر برتری حاصل کی۔ صرف آٹھویں راؤنڈ میں کولازو نے عامر کے خلاف ایک پوائنٹ زیادہ حاصل کیے۔

بارہ راؤنڈ کے اس مقابلے میں آخری راؤنڈ میں عامر ہر چند کے گرے تاہم انھوں نے پوائنٹس نہیں گنوائے۔

عامر کے لیے 10واں راؤند بہت سود مند ثابت ہوا جس میں انھوں تین پوائنٹس زیادہ حاصل کیے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک سال بعد رنگ میں اترنے کے بعد بھی عامر خان میں کسی قسم کی کمی کا احساس نہیں ہوتا یعنی ان کے بازو ابھی شل نہیں ہوئے ہیں اور ان میں زنگ نہیں لگا ہے۔

اس پورے مقابلے میں تین بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ عامر خان اپنے حریف کولازو کو ناک آؤٹ کردیں گے۔

اسی بارے میں