لندن:سپاٹ فکسنگ مقدمے میں کنیریا کی سزا برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کنیریا نے اس فیصلے کے خلاف گذشتہ سال اپریل میں اپیل کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا

سپاٹ فکسنگ کے الزام پر تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے پاکستان کے سابق کرکٹر دانش کنیریا لندن کی ہائی کورٹ میں اپنا مقدمہ ہار گئے ہیں۔

انگلش کرکٹ بورڈ نے کنیریا پر سنہ 2012 میں یہ پابندی لگائی تھی۔

ان پر2009 میں ڈرہم کے خلاف میچ میں ایسیکس کاؤنٹی کی ٹیم کے ساتھی کھلاڑی مرون ویسٹ فیلڈ کو ’جان بوجھ کر رنز دینے‘ کے لیے دباؤ ڈالنے، سٹے بازوں سے ان کو متعارف کروانے اور کرکٹ کے کھیل کو بدنام کرنے کے الزامات تھے۔

مرون ویسٹ فیلڈ نے دانش کنیریا پرالزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے ان پر ایک سٹے باز سے ناقص کارکردگی کے بدلے 6,000 پاونڈ لینے پر دباؤ ڈالا تھا۔

کنیریا نے اس فیصلے کے خلاف گذشتہ سال اپریل میں اپیل کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے انضباطی قواعد کے تحت قائم ہونے والے اپیل پینل نے پابندی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

اس پر کنیریا نے لندن کی ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جسے جج نے منگل کو مسترد کر دیا۔

جج جسٹن ہیمبلن کا کہنا تھا کہ اپیل پینل نے اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ فیصلے میں کوئی قانونی غلطی نہیں ہوئی۔

منگل کو ہونے والی سماعت کے موقع پر دانش کنیریا عدالت میں موجود نہیں تھے۔ ان کے وکیل نے جج کو بتایا کہ ان کے موکل پاکستان میں ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم کے تین کھلاڑیوں محمد عامر، سلمان بٹ اور محمد آصف پر 2010 میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں سپاٹ فکسنگ کرنے کا جرم ثابت ہونے کے بعد پابندی لگا دی گئی تھی۔

دانش کنیریا نے پاکستانی کی جانب سے 61 میچوں میں 261 وکٹیں لے چکے ہیں۔ وہ وسیم اکرم ، وقار یونس اور عمران خان کے بعد سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے چوتھے کھلاڑی ہیں۔

اسی بارے میں