’کوچ کی تقرری آنکھوں میں دھول جھونکے کے مترادف‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وقاریونس اس سے پہلے بھی کوچ بنے اور یہ عہدہ چھوڑ کر چلے گئے: محسن خان

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور ٹیم کے سابق کوچ محسن خان نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسے سابقہ کرکٹروں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جو ماضی میں مبینہ طور پر کرکٹ کرپشن کے ضمن میں بدنام رہے ہیں۔

انھوں نے وقاریونس کو کوچ بنائے جانے اور ان کے کوچ بنائے جانے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی ہے۔

واضح رہے کہ محسن خان نے بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔

محسن خان نے جمعرات کو صحافیوں کے روبرو کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوچ کے انتخاب کے لیے جس طریقہ کار کا اعلان کیا تھا اس نے خود ہی اس کی خلاف ورزی کی ہے۔ امیدواروں کو نہ تو شارٹ لسٹ کیا گیا اور نہ ہی ان کے انٹرویوز کیے گیے اور آخری تاریخ سے پہلے ہی بورڈ کے چیئرمین نے وقاریونس کو کوچ بنانے کا اعلان کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی کسی کو کوچ بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا تو اس ڈرامے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ اس سے دنیا بھر میں پاکستانی کرکٹ کے بارے میں منفی پیغام گیا ہے جو پہلے ہی بدنام ہو چکی ہے۔‘

محسن خان نے کہا کہ اگر جسٹس قیوم کمیشن کی سفارشات پر پوری طرح عمل کر لیا جاتا تو آنے والے برسوں میں سلمان بٹ محمد عامر اور محمد آصف میں اتنی جرات نہ ہوتی کہ وہ کرپشن میں ملوث ہوتے۔

انھوں نے کہا کہ وقاریونس اس سے پہلے بھی کوچ بنے اور یہ عہدہ چھوڑ کر چلے گئے۔

محسن خان نے کہا کہ انھوں نے ایشیا کپ سے پہلے بھی کوچ کے عہدے کے لیے درخواست دی تھی لیکن معین خان کو کوچ بنا دیا گیا۔اگر شاہد آفریدی کی ایشیا کپ میں دو اچھی اننگز نہ ہوتیں تو پاکستانی ٹیم ایشیا کپ سے بھی باہر ہو جاتی، جبکہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی بہت خراب رہی اور اس کے باوجود واپسی پر لوگوں کو عہدے دے دیے گئے۔

محسن خان نے کہا کہ ان پر یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ وہ کوالیفائیڈ کوچ نہیں تھے، لیکن سب نے دیکھا کہ ان کی کوچنگ میں پاکستانی ٹیم نے عالمی نمبر ایک ٹیم انگلینڈ کے خلاف وائٹ واش کیا تھا، لیکن جب ٹیم بہتری کی جانب جا رہی تھی تو انھیں ہٹا دیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی اور اب بھی یہی ہوا ہے۔

اسی بارے میں