’سزا یافتہ کرکٹروں کی تقرریوں پر دوبارہ غور ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ذکا اشرف نے پیر کو پی سی بی کے ہیڈکوارٹر پہنچ کر اپنا عہدہ سنبھالا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر بحال ہونے والے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف نے اپنا عہدہ دوبارہ سنبھال لیا ہے۔

سنیچر کو عدالتِ عالیہ کے جسٹس نور الحق قریشی نے ذکا اشرف کو ان کے عہدے پر بحال کرنے کا فیصلہ دیا تھا جس کے بعد نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نہیں رہے تھے اور ان کے تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے گئے تھے۔

پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا جس کے بعد ذکا اشرف نے لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے دفتر پہنچ کر چیئرمین کا عہدہ دوبارہ سنبھال لیا۔

چارج سنبھالنے کے موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے منتخب چیئرمین ہیں اور ایک بار پھر انھیں آزاد عدلیہ نے ان کے عہدے پر بحال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ منتخب چیئرمین ہونے کے باوجود اگر کوئی انھیں ان کے عہدے سے ہٹاتا ہے تو وہ پاکستانی کرکٹ کو بدنام کر رہا ہے۔

ذکا اشرف نے کہا کہ وہ نجم سیٹھی کے دور کے تمام فیصلوں کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور اچھے فیصلے برقرار رکھے جائیں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’نجم سیٹھی صاحب نے پاکستانی کرکٹ کے بارے میں جو خوشخبریاں سنانے کی باتیں کی ہیں وہ انھیں لکھ کر دے دیں اور اگر واقعی وہ پاکستانی کرکٹ کے بہترین مفاد میں ہوئیں تو انھیں جاری رکھا جائے گا تاہم اگر وہ خوش خبریاں محض گفتگو کی حد تک ہیں تو وہ پھر گفتگو ہی رہیں گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسے کرکٹروں کی تقرریوں کے فیصلوں پر ضرور از سرِ نو غور ہوگا جو کرپشن میں سزا یافتہ ہیں یا ان پر جرمانے ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے وقار یونس کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ اور مشتاق احمد کو سپن بولنگ کوچ مقرر کیا ہے اور ان دونوں پر جسٹس قیوم کمیشن نے جرمانے عائد کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ بگ تھری پاکستانی اور بین الاقوامی کرکٹ کے مفاد میں نہیں ہے اور انھوں نے اس بارے میں جو بھی موقف اختیار کیا وہ اصولوں پر مبنی تھا۔

خیال رہے کہ ذکا اشرف دو مرتبہ پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد بحال ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں