ذکا اشرف کی بحالی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ دوسری مرتبہ ہے کہ چوہدری ذکا اشرف کو عدالتی حکم پر اُن کے عہدے پر بحال کیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے چوہدری ذکا اشرف کی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ بحالی سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف یہ درخواست منگل کو بین الصوبائی رابطوں کی وزارت کی طرف سے عاصمہ جہانگیر کی وساطت سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

انصاف کا بول بالا مگر ادارہ بے یقینی کا شکار

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ بدھ سے اس درخواست کی سماعت کرے گا۔

اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ چوہدری ذکا اشرف کی بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کی بحالی کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور نجم سیٹھی سمیت دیگر افراد کو اُن کے عہدوں پر بحال کیا جائے۔

اس سے پہلے بین الصوبائی رابطوں کی وزارت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی انٹرا کورٹ اپیل واپس لے لی تھی اور عدالت عالیہ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نور الحق قریشی نے چوہدری ذکا اشرف کی طرف سے برطرفی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر فیصلہ سُناتے ہوئے اُن کی برطرفی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اُنھیں دوبارہ بطور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نجم سیٹھی سمیت دیگر افراد کو اُن کے عہدوں پر بحال کیا جائے: درخواست

یہ دوسری مرتبہ ہے کہ چوہدری ذکا اشرف کو عدالتی حکم پر اُن کے عہدے پر بحال کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد الیاس کو اُن کے عہدے پر بحال کر دیا تھا جس کے خلاف نجم سیٹھی کی سربراہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوئی انٹراکورٹ اپیل دائر نہیں کی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے معین خان کو چیف سلیکٹر مقرر کیا تھا جبکہ وقار یونس کو قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ بنایا گیا ہے۔

موجودہ چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے ان افراد کے مستقبل کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا تاہم اُنھوں نے عہدہ سنبھالتے ہی کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

اسی بارے میں