کیا انصاف صرف اسلام آباد میں ملتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بین الصوبائی رابطے کی وزارت نے منگل کو ذکا اشرف کی بحالی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پٹیشنرز سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ وہ آخر اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب ہی کیوں بھاگتے ہیں؟ کیا انصاف صرف اسلام آباد میں ملتا ہے کسی دوسری عدالت میں نہیں ملتا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نورالحق قریشی نے سنیچر کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے ذکا اشرف کو بحال کرتے ہوئے نجم سیٹھی کی سربراہی میں قائم مینیجمنٹ کمیٹی کے تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے تھے۔

بین الصوبائی رابطے کی وزارت نے منگل کو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔

نجم سیٹھی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا: ’انصاف ہر عدالت سے ملنا چاہیے۔ اگر سندھ کامسئلہ ہے تو اسی عدالت میں جانا چاہیے اور اگر لاہور کا ہے تو وہیں جانا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ عدالتوں نے دائرہ اختیار کے بارے میں فیصلے دے رکھے ہیں، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب دانش کنیریا نے سندھ ہائی کورٹ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف اپیل دائر کی تھی تو ان سے کہا گیا تھا کہ یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے آپ وہاں جائیں۔ اب لوگ ہر کونے سے اٹھ کر اسلام آباد جا رہے ہیں تو ان سے سوال ہونا چاہیے کہ کیا انصاف صرف اسلام آباد میں ملتا ہے کسی دوسری عدالت میں نہیں ملتا؟

نجم سیٹھی نے کہا: ’حیران کن بات یہ ہے کہ کسی بھی پٹیشنر نے یہ نہیں کہا تھا کہ تمام فیصلے کالعدم قرار دے دیے جائیں لیکن یہ کیس جس طرح ہینڈل ہوا ہے وہ بہت ہی افسوس ناک ہے اور اس سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہے۔‘

نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا نیا جمہوری آئین سپریم کورٹ کے دو سابق جج حضرات نے تیار کیا ہے اور اسے بین الصوبائی رابطے کی وزارت کو بھیج دیا گیا تھا اور اگر اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ نہ آتا تو آئندہ دو ہفتوں میں اس آئین کے تحت پاکستان کرکٹ بورڈ کے صاف شفاف انتخابات بھی عمل میں آجاتے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔

اس سوال کے جواب میں کہ آپ چار ماہ کے لیے کرکٹ بورڈ میں آئے اس کے باوجود آپ نے طویل مدتی فیصلے کیسے کیے جن میں کوچز کی دو سال کے لیے تقرری شامل ہے؟ تو نجم سیٹھی نے کہا کہ ایس آر او میں انھیں مکمل اختیارات دیے گئے تھے۔ جب ان کے پاس اختیارات نہیں تھے تو ان پر اعتراض ہوتا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں کر رہے لیکن جب اختیارات مل گئے تو اب یہ اعتراض ہو رہا ہے کہ فیصلے کیوں کیے؟

نجم سیٹھی نے کہا کہ تمام فیصلے پوری ذمہ داری کے ساتھ صاف شفاف انداز میں کیے گئے ہیں اور ہر فیصلے سے عوام اور میڈیا کو باخبر رکھا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ معاہدے کالعدم قرار دیے جانے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اگر ذکا اشرف کے خلاف اپیل کا فیصلہ ہوجاتا ہے تو پھر ان کے کیے گئے فیصلے منسوخ ہو جائیں گے اور پرانے فیصلے واپس آجائیں گے، لہٰذا ایک بے یقینی کی سی کیفیت ہے۔

اسی بارے میں