رونالڈو اور پرتگال کا ورلڈکپ کا خواب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فٹبال ماہرین نے پرتگال کی جیت کے امکانات کو ذیادہ ہوا نہیں دی ہے

کہتے ہیں کہ بچوں کی زندگی میں اساتذہ بہت اہم کرداد ادا کرتے ہیں لیکن بعض اوقات کچھ ایسے استاد ہوتے ہیں جو بچوں کو کسی مخصوص بات یا واقعے کی وجہ سے یاد رہ جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک واقعہ آج سے بیس سال پہلے پرتگال کے مڈیرہ نامی جزیرے کے ایک چھوٹے سے سکول میں پیش آیا جب ایک استاد کلاس میں بچوں کو سبق دے رہا تھا اور کلاس شروع ہوئے دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ ایک بچہ ہاتھ میں فٹبال لیے ہانپتا ہانپتا کلاس کے دروازے پہ پہنچا۔

جب استاد نے ناگوار نظروں سے بچے کو دیکھا اور وقت پر نہ آنے کی وجہ پوچھی تو 9 سال کے اس بچے نے جواب دیا وہ فٹبال کھیل رہا تھا۔ استاد نے نظر کا چشمہ نیچے کیا اور دھیمے لہجے میں فٹبال کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا کہ یہ فٹبال تمہیں کچھ نہیں دے گا۔ جو کچھ زندگی میں تم حاصل کرو گے وہ تمھیں اس کلاس سے ملے گا۔

بچے نے نظریں نیچیں کیں اور خاموشی سے اپنی نشست پر جا کر بیٹھ گیا لیکن استاد کی اس بات نے اس کے ذہن پر گہرا اثر چھوڑا۔ وہ اثر مثبت تھا یا منفی یہ تو معلوم نہیں ہاں البتہ 10 سال بعد جب مانچسٹر یونائیٹڈ کی شرٹ پہنے اسی بچے کے قدموں نے اولڈ ٹریفورڈ کے میدان میں قدم رکھا تو استاد کی اسی بات نے اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلا دی۔

اگلے پانچ سالوں میں کرسٹیانو رونالڈو دنیا کے بہترین کھلاڑی کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ مانچسٹر یونائٹڈ اور ریال میڈرڈ کی طرف سے کھیلنے والے نہ صرف وہ پہلے پرتگالی کھلاڑی تھے بلکہ انگلش پریمیئر لیگ کے تمام ایوارڈ جیتنے والے واحد کھلاڑی کا اعزاذ بھی انھی کو حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پرتگال کی ورلڈکپ ٹیم کے جسم میں پرانے اور نئے خون کی آمیزش کر کے اسے رونالڈو کی سربراہی میں برازیل کے میدانوں میں اتارا جا رہا ہے

پرتگال نے فٹبال ورلڈ کپ کے سکواڈ کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا تو مینیجر پاؤلو بینیتو کی 30 رکنی ٹیم کی سربراہی رونالڈو کے ہاتھ میں تھمائی گئی۔

تاہم فٹبال ماہرین نے پرتگال کی جیت کے امکانات پر زیادہ توجہ نہیں دی اور وہ دیں بھی کیسے؟ ورلڈکپ میں جہاں سپین، برازیل اور ارجنٹینا کی ٹیمیں شامل ہیں وہاں پرتگال کی جیت کے مواقع بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن اگر ایک منٹ کے لیے سوچا جائے تو ماہرین کی رد کی ہوئی یہی ٹیم 2006 کے ورلڈ کپ سیمی فائنل، یورو 2008 کے کوارٹر فائنل اور 2012 کے یورو کپ کے سیمی فائنل میں جا پہنچی۔ اور ان سب کامیابیوں میں پرتگالی ٹیم میں رونالڈو کا اہم کردار تھا۔

تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی کھیل یا مقابلے میں سپاہیوں کی سربراہی اور لشکر کی جیت کی ذمہ داری سپہ سالار کے کندھوں پہ ہوتی ہے۔ جیسا فرانس کی 1998 کی ورلڈکپ جیت میں زیدان اور ارجنٹینا کے 1986 کی فتح میں میراڈونا پر تھی اور جیسے عمران خان نے خالی ہاتھوں ایک نوجوان ٹیم کے سہارے پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کا تحفہ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پرتگالی مداحوں کی رونالڈو سے بہت امیدیں وابسطہ ہیں

بلکل ایسی تو نھیں لیکن اس سے ملتی جلتی صورتحال کا سامنا یہاں رونالڈو کو بھی ہے۔ رونالڈو کی ٹیم میں پیپے، رکاڈو کوسٹا اور نانی جیسے باصلاحیت کھلاڑی شامل ہیں اور پھر رونالڈو خود ہیں جنھوں نے ورلڈ کوالیفائینگ راؤنڈ میں اکیلے چار گول کر کے سویڈن کے دفاع کی دھجیاں اڑا دیں اور انھیں ورلڈکپ میں شامل نہیں ہونے دیا۔

پرتگال اور رونالڈو کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ ان کا شمار ورلڈ کپ فیورٹز میں نہیں ہوتا، بقول رونالڈو کے یہ اچھی بات اس لیے ہے کہ ان کی ٹیم پر اس حوالے سے دباؤ ہر گز نہیں ہے جس دباؤ کا سامنا سپین کی ٹیم یا لیونل میسی کی ارجینٹائن ٹیم کو ہے۔

ان ساری باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پرتگال کی ورلڈکپ ٹیم میں نئے اور تجربہ کی آمیزش کر کے اسے رونالڈو کی سربراہی میں برازیل کے میدانوں میں اتارا جا رہا ہے۔

پرتگال میں شائقین اور مداحوں کو رونالڈو سے بہت امید ہے، انھیں امید ہے کہ وہ بلآخر پرتگال کا ورلڈ کپ جیتنے کا خواب پورا کرینگے۔

رونالڈ واگر جیت کر آئے تو غازی اور اگر ہار پرتگال کا مقدر ہوئی تو تاریخ کے اوراق میں رونالڈو کے بارے میں یہی لکھا جائے گا کہ وہ جیتا ہوا سپاہی تھا لیکن افسوس ہارے ہوئے لشکر سے تھا۔

اسی بارے میں