’کرکٹ بحران کی ذمہ دار حکومت ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ذکا اشرف کو ان کےعہدے سے ہٹائے جانے کے نتیجے میں بحران پیدا ہوا تھا: خالد محمود

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین خالد محمود کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ کے معاملات میں مداخلت کرکے اپنی پسند کے لوگوں کو بٹھا دینا اس حکومت کی پرانی روایت رہی ہے جس کا وہ خود بھی شکار رہ چکے ہیں۔

خالد محمود نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں موجودہ حکومت کو اس بحران کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو صحیح طور پر ہینڈل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

’حکومتی بدانتظامی کے بارے میں دو آرا نہیں ہو سکتیں۔ وزیراعظم نواز شریف کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف ہیں تاہم وہ اس سنگین مسئلے کوحل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔‘

خالد محمود کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب موجودہ حکومت کرکٹ بورڈ کے معاملے میں غیرمعمولی طور پر متحرک ہوئی ہے، بلکہ اسے جب بھی موقع ملا ہے اس نے ایسا ہی کیا ہے بلکہ وہ خود ماضی میں اس کی مداخلت کا شکار بن چکے ہیں۔

’میں صرف 15 ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین رہا حالانکہ اس دور میں پاکستانی ٹیم نے سنہ 1999 کے ورلڈ کپ کا فائنل بھی کھیلا اور بورڈ کے معاملات بھی خوش اسلوبی سے نمٹائے جا رہے تھے لیکن مجھے حکومت کی جانب سے پیغام دیا گیا کہ میں سینیٹر سیف الرحمن کے بھائی مجیب الرحمن کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیف ایگزیکٹیو بنادوں۔

’میں نے میرٹ کی بنیاد پر ایسا کرنے سے انکار کردیا تو مجھے دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ چیف ایگزیکٹیو تو ایک طرف اب مجیب الرحمن کو چیئرمین بنوا کر رہیں گے اور اس کے بعد میرے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور پھر مجھے چیئرمین کے عہدے سے ہٹاکر مجیب الرحمن کو پی سی بی کاسربراہ بنا دیا گیا۔‘

خالد محمود کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران دراصل اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پہلی مرتبہ ذکا اشرف کو ان کےعہدے سے ہٹائے جانے کے نتیجے میں پیدا ہوا تھا:

’ ذکا اشرف جس الیکشن کے ذریعے چیئرمین منتخب ہوئے تھے اس میں خرابیاں تھیں اس میں سب کی نمائندگی نہیں تھی۔ وہیں سے خرابی پیدا ہوئی لیکن اسلام آْباد ہائی کورٹ نے اس خرابی کو دور کرنے کے بجائے ذکا اشرف کو ہی فارغ کر دیا۔ پتہ نہیں عدالت نے وہ فیصلہ کس جذبے کے تحت دیا تھا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کرکٹ بورڈ کا آئین جمہوری اور مشاورتی بنایا جائے اور اس کے تحت نئے انتخابات کرائے جائیں۔‘

اسی بارے میں