عدالتی جنگ میں پیسہ کس کا خرچ ہو رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی سی بی کے چیئرمین کے عہدے پر تنازع کئی ماہ سے چل رہا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) توقیرضیا کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ نجم سیٹھی اور ذکا اشرف عدالتی جنگ اپنے پیسوں سے لڑ رہے ہیں یا یہ تمام اخراجات کرکٹ بورڈ کے خزانے سے ادا کیے جا رہے ہیں۔

توقیر ضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان دونوں صاحبان کے درمیان اس عدالتی جنگ میں وکیلوں کی بھاری فیس اور کورٹ کی فیس کی مد میں یقیناً ایک بڑی رقم خرچ ہو رہی ہے لہٰذا دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ پیسہ کرکٹ بورڈ کا تو نہیں۔

توقیرضیا نے کہا کہ کرکٹ بورڈ کے اس بحران سے دنیا ہمیں غیر معتبر، غیرسنجیدہ اورغیرذمہ دار سمجھنے لگی ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان پہلے ہی دہشت گردی کی وجہ سے بدنام ہے۔

توقیر ضیا نے کہا کہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ لڑائی دو پڑھے لکھے اپنی اپنی فیلڈ کے مستحکم اور پیسے والے اشخاص کی ہے جو اب انا کا مسئلہ بن چکی ہے۔

توقیرضیا نے کہا کہ انھوں نے نجم سیٹھی سے پہلے بھی یہی کہا تھا کہ وہ آخر کیوں اس عہدے میں اتنی دلچسپی رکھتے ہیں، آپ نے دنیا دیکھ لی ہے پیسہ بھی آپ کی ضرورت نہیں ہے اور جہاں تک شہرت کی بات ہے تو آپ ویسے ہی میڈیا کے آدمی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ کرکٹ بورڈ کے پیٹرن کی حیثیت سے اس مسئلے کو جتنا جلد ہوسکے حل کریں۔

توقیرضیا نے کہا کہ حکومت نے چونکہ نجم سیٹھی کی تقرری کی ہے لہٰذا وہ ان کی حمایت کر رہی ہے۔ پسند ناپسند اپنی جگہ لیکن حکومت کو کرکٹ بورڈ کے معاملات عدالتوں میں نمٹائے جانے کا سلسلہ ختم کرانا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ جو بھی کرنا ہے یہ پیٹرن کی صوابدید ہونی چاہیے اس کے علاوہ پیٹرن کو چاہیے کہ وہ ایک کمیٹی تشکیل دیں جو آئین تیار کرکے الیکشن کرائے اور جو بھی جیتے اسے دو تین سال دیے جائیں تاکہ وہ اپنی پالیسی کے مطابق کام کرسکے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر وزیراعظم نے اپنی ذمہ داری نہ نبھائی تو پاکستانی کرکٹ کا مذاق اڑتا رہے گا۔

اسی بارے میں