گرینڈ سلیم ڈبلز ٹائٹل جیتنے کی خواہش ہے: اعصام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سال اعصام الحق اور روہن بوپنا کے نتائج ملے جلے رہے ہیں

ٹینس کے کھلاڑیوں اعصام الحق اور روہن بوپنا کی جوڑی دو سال بعد دوبارہ اکٹھی ہوئی ہے اور یہ دونوں جیت کا سلسلہ وہیں سے شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں سے انھوں نے چھوڑا تھا۔

ان دو برسوں کے دوران روہن بوپنا نے کئی پارٹنرز تبدیل کیے جبکہ اعصام الحق نے ہالینڈ کے جولین راجرز کے ساتھ مقابلوں میں حصہ لیا۔

اس سال اعصام الحق اور روہن بوپنا کے نتائج ملے جلے رہے ہیں۔ دونوں نے دبئی اوپن جیتنے کے ساتھ ساتھ سڈنی کا فائنل کھیلا ہے تو دوسری جانب چند ایونٹس کے پہلے اور دوسرے راؤنڈ میں شکست بھی ان کے کھاتے میں درج ہوئی ہے۔

اعصام الحق اپنے پرانے دوست کے ساتھ گرینڈ سلیم ڈبلز ٹائٹل جیتنے کی خواہش کو حقیقت کا روپ دینے کے آرزو مند ہیں۔ اور ساتھ ہی وہ سال بھر کی عمدہ کارکردگی کا صلہ اے ٹی پی ورلڈ ٹور فائنلز تک رسائی کی صورت میں بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

اعصام الحق نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ رواں سال اب تک انھیں سخت مقابلوں کا سامنا رہا ہے:

’اس وقت ہماری رینکنگ آٹھویں ہے اور صف اول کے کھلاڑیوں کے خلاف ہمارے میچ بہت ہی سخت رہے ہیں۔ اٹالین اوپن میں بدقسمتی سے ہمارا مقابلہ برائن برادرز سے دوسرے ہی راؤنڈ میں ہوگیا۔ لیکن توقع ہے کہ فرنچ اوپن اور ومبلڈن میں ہمیں سیڈنگ مل جائے گی جس کے سبب ہمارا برائن برادرز اور دوسرے صف اول کے کھلاڑیوں سے سامنا ابتدائی مرحلے میں نہیں ہوگا۔‘

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ جتنا عرصہ بھی وہ روہن بوپنا سے الگ رہ کر کھیلے انھوں نے بہت کچھ سیکھا۔

’جب آپ مختلف لوگوں کے ساتھ کھیلتے ہیں تو کچھ نہ کچھ ضرور سیکھتے ہیں۔ مجھ میں جو خامیاں تھیں میں نے دور کرنے کی کوشش کی ہیں۔ ہم دونوں میں زیادہ پختگی آئی ہے اور تجربہ بھی ملا ہے۔‘

اعصام الحق کا کہنا ہے کہ گرینڈ سلیم ٹائٹل جیتنے کی لگن انھیں آگے بڑھنے میں مدد دے رہی ہے۔

’جب ہم نے 2010 میں یو ایس اوپن کا فائنل کھیلا تو لوگ اسے اتفاق یا ’تکّا‘ سمجھتے تھے۔ لیکن ہم نے اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ اتفاق نہیں تھا۔ میرا اب بھی یہی ٹارگٹ ہے کہ اپنے کریئر کا پہلا گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ جیتوں۔ مجھے اپنی صلاحیتوں کا اچھی طرح پتہ ہے کہ میں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت سکتا ہوں۔‘

اعصام الحق اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یا تو وہ فائنل میں جا پہنچتے ہیں یا پھر پہلے ہی راؤنڈ سے باہر ہوجاتے ہیں:

’اس مسئلے پر قابو کرنے کی ہم دونوں کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی اس میں کمی آئی ہے۔ 2010 اور 2011 میں ایسا کئی بار ہوا تھا لیکن اب صورتحال خاصی مشکل ہے کیونکہ ڈبلز کے قوانین میں بڑی تبدیلی آگئی ہے اور ہم دونوں زیادہ تر میچز سخت مقابلے کے بعد سپر ٹائی بریکر میں ہارے ہیں۔ لیکن ابھی سال ختم نہیں ہوا ہے کئی مقابلے باقی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ ہم اس سال بھی اچھے نتائج دیں گے۔‘

اسی بارے میں