’کتنی کرکٹ باقی ہے اس کا انحصار کارکردگی پر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپنے ملک کی قیادت ایک اعزاز کی بات ہے: شاہد آفریدی

پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ 2015 کے عالمی کپ کے بعد ون ڈے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیں اور صرف ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جاری رکھیں۔

لاہور میں لگائے گئے کنڈیشنگ کیمپ کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہویے شاہد آفریدی نے کہا کہ ان میں کتنی کرکٹ ابھی باقی ہے اس کا انحصار ان کی کارکردگی پر ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تمام سینیئر کھلاریوں کی طرح 2015 کا عالمی کپ ان کے لیے بھی کافی اہم ہے کہ وہ اس میں کس طرح کی کارکردگی دکھاتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ہر کھلاڑی کی طرح ان کی بھی خواہش ہے کہ وہ پاکستان کی ٹیم کی کپتانی کریں۔

ان کے بقول ٹیم کی کپتانی کوئی پھولوں کا بستر نہیں اور نہ ہی کپتان بننے سے آپ کو کرکٹ بورڈ سے کوئی جائیداد مل رہی ہوتی ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ اپنے ملک کی قیادت ایک اعزاز کی بات ہے۔

شاہد آفریدی نے 2011 کے عالمی کپ میں پاکستان کی قیادت کی تھی لیکن اس کے بعد ویسٹ انڈیز کے دورے میں وقار یونس کے ساتھ ہونے والے اختلافات کی بناء پر کپتانی چھوڑنا پڑی تھی۔

اور اب جبکہ وہ پھر کپتان بننے کی خواہش رکھتے ہیں تو پھر کوچ وقار یونس ہی ہیں جو حال ہی میں دوبارہ پاکستان کے ہیڈ کوچ مقر کیے گیے ہیں۔

وقار یونس کی تقرری پر بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ ’اگر وقار یونس نے یا خود انہوں نے اپنی پرانی غلطیوں سے نہ سیکھا تو ہم وہیں کھڑے رہیں گے اور معاملات پہلے ہی کی طرح رہیں گے لیکن اگر ہم سب یہ سوچیں کہ ہمیں آگے بڑھنا ہے اور ملک کے لیے اور ٹیم کے لیے سوچنا ہے تو ان باتوں کو بھولنا ہو گا۔‘

آئے دن پی سی بی کے چیئرمینوں کی تبدیلی پر شاہد آفریدی نے کہا کافی عرصے سے یہ باتیں میڈیا پر آ رہی ہیں جو ٹیم اور ملک کے تاثر کو خراب کرتی ہیں جبکہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان سے کرکٹرز اور کرکٹ کو نقصان نہیں ہونا چاہیے۔‘

شاہد آفریدی نے کہا کہ آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہ کر کے بھارتی کرکٹ بورڈ دنیائے کرکٹ کو ایک منفی پیغام دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے بلکہ ان کا تو یہ خیال ہے کہ کرکٹ کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں کیونکہ ’دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین چاہتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے ملک میں جا کر کھیلیں۔‘

اسی بارے میں