کولکاتہ نائٹ رائیڈرز دوسری بار آئی پی ایل چیمپئن

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption بنگلور میں کھیلے گئے فائنل میچ میں کولکاتہ نائٹ رائڈرز نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا

انڈین پریمیئر لیگ کے ساتویں سیزن کے فائنل میچ میں کولکاتہ نائٹ رائڈرز نے کنگز الیون پنجاب کو تین وکٹوں سے شکست دے کر دوسری بار آئی پی ایل ٹورنامنٹ جیت لیا ہے۔

اس سے قبل دو ہزار باہ میں بھی کولکاتہ کی ٹیم نے آئی پی ایل کا فائنل میچ جیتا تھا۔

فائنل میچ کے دورارن اگر شاہ رخ خان اپنی ٹیم کولکاتہ نائٹ رائڈرز کی مستقل حوصلہ افزائی کرتے رہے تو اداکارہ پریٹی زنٹا بھی اپنی ٹیم ’ کنگز الیون پنجاب‘کی حمایت میں نعرہ بازی کرتی رہیں۔

کیا آئی پی ایل اپنی کشش کھو رہی ہے؟

اتوار کی شب کھیلے گئے فائنل میچ میں کولکاتہ کی ٹیم کو جیتنے کے لیے 200 رنز کا ہدف ملا تھا جو اس نے سات وکٹ کے نقصان پر20ویں اوور کی تیسری گیند پر حاصل کر لیا۔

کولکاتہ نائٹ رائڈرز کو یہ جیت بلے باز منیش پانڈے کی اچھی بیٹنگ کے بدولت ملی جنھوں نے سات چوکے اور چھ چھکّوں کی مدد سے محض 50 گیندوں پر 94 رن سکور کیے۔ انھیں مین آف دی میچ کے خطاب سے نوازا گيا۔

کولکاتہ نائٹ رائڈرز کا آغاز اچھا نہیں تھا اور اس کے سٹار بلے باز رابن اتھپّا، جنھوں نے اس سیزن میں سب سے زیادہ رن سکور کیے ہیں، محض پانچ رن بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

لیکن پھر دوسرے کھلاڑیوں نے احتیاط سے بیٹنگ کی۔ کپتان گوتم گمبھیر نے 17 گیندوں پر 23 رن، یوسف پٹھان نے 22 بالز پر 36 رن سکور کیے۔

پنجاب کی طرف سے کرن ویر سنگھ نے 54 رنوں کے عوض چار وکٹیں لیں جبکہ مچل جانسن نے 41 رن دیکر دو وکٹیں حاصل کیں۔

بنگلور میں کھیلے گئے فائنل میچ میں کولکاتہ نائٹ رائڈرز نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور کنگز الیون پنجاب نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چار وکٹ کے نقصان پر مقررہ 20 اوور میں 199 رنوں کا بڑا سکور کھڑا کیا۔

پنجاب کے بلے باز وردھمان ساہا نے جارہانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار سنچری سکور کی۔ انھوں نے دس چوکے اور آٹھ چھکوں کی مدد سے 55 گیندوں پر 115 رن بنائے اور آخر تک آؤٹ نہیں ہوئے۔

آئی پی ایل کے فائنل میچ میں اب تک کی یہ پہلی سنچری ہے۔ مانو ووہرا نے بھی ساہا کا اچھا ساتھ دیا اور 52 گيندوں پر 67 رن سکور کیے۔ لیکن پنجاب کی ٹیم بالآخر ہار گئی۔

کولکاتہ کی جانب سے سپنر پیوش چاؤلہ نے 44 رن دیکر دو وکٹیں اور اومیش یادو نے 39 رنوں کے عوض ایک وکٹ حاصل کی۔

پنجاب کی ٹیم نے سب سے زیادہ لیگ میچز جیتے تھے اور پوائٹنس کے حساب سے وہ اوّل نمبر پر تھی لیکن اس بار کولکاتہ کی ٹیم سے اس کا چار بار مقابلہ ہوا اور ہر بار کولکاتہ ہی جیتی۔

دوسری جانب سے ابتداء میں کولکاتہ کی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں تھی لیکن بعد میں وہ ایسے سنبھل گئی کہ اسے ہرانا مشکل ہوگيا۔

اسی بارے میں