سینٹرل کنٹریکٹ: یونس خان اے کیٹیگری میں کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونس خان صرف ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے اعلان کردہ اس سال کے سینٹرل کنٹریکٹ میں پانچ کرکٹرز کو اے کیٹیگری دی گئی ہے جن میں تجربہ کار بلے باز یونس خان شامل نہیں ہیں۔

وہ گزشتہ سال سینٹرل کنٹریکٹ کی اے کیٹیگری میں شامل تھے لیکن اب انہیں بی کیٹیگری دی گئی ہے۔

یونس خان کو اے کیٹیگری نہ دیے جانے کو متعدد حلقوں نے ان کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کیا ہے تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹ میں کرکٹرز کو چار مختلف کیٹیگریز میں شامل کرنے کے اصول پہلے ہی وضع کر لیے تھے۔

سینٹرل کنٹریکٹ میں کسی بھی کرکٹر کی اے کیٹیگری میں شمولیت کی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ تینوں طرز کے میچ کھیل رہا ہو یا کسی بھی فارمیٹ میں پاکستانی ٹیم کا کپتان ہو۔

اس کے علاوہ کم ازکم دو فارمیٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے اور کم ازکم پچاس ٹیسٹ میچز یا پھر کم ازکم 200 ون ڈے انٹرنیشنل ضرور کھیلے ہوں۔

یونس خان نے پاکستان کی طرف سے اب تک 89 ٹیسٹ اور 253 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے ہیں لیکن اس وقت وہ صرف ایک فارمیٹ یعنی ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے مطابق یونس خان بی کیٹیگری میں شمولیت کی شرائط پوری کرتے ہیں جو یہ ہیں کہ کرکٹر دو فارمیٹ میں کھیل رہا ہو یا اگر وہ ایک ہی فارمیٹ کھیل رہا ہے تو وہ اس میں پاکستانی ٹیم کا کپتان ہو یا کم ازکم 35 ٹیسٹ یا پھر 150 ون ڈے کھیلے ہوں۔

سی کیٹیگری میں شمولیت کے لیے دس ٹیسٹ یا 25 ون ڈے یا 15 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی شرط رکھی گئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس مرتبہ فٹنس پر خاص توجہ دیتے ہوئے سینٹرل کنٹریکٹ میں یہ بات واضح کردی ہے کہ اگر کوئی بھی کھلاڑی فٹنس کا معیار برقرار نہیں رکھے گا اس کی ماہانہ آمدنی سے پچیس فیصد رقم کاٹ لی جائے گی۔

اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ وقتاً فوقتاً تین فٹنس ٹیسٹ لے گا جبکہ اگر کسی کرکٹر کا فٹنس معیار بہتر پایا گیا تو اسے بونس بھی دیا جائے گا۔

اسی بارے میں