1950 کے عالمی فٹبال کپ میں کیا ہوا؟

یوراگوئے پر برازیل تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کھیل کے 66 ویں منٹ میں ہوان البرٹو شیافینو نے گول کیا اور یوراگوئے پر برازیل کی برتری ختم کر دی۔

ساٹھ سال قبل برازیل 1950 کے عالمی فٹبال کپ کا میزبان تھا اور اس کی فتح سب کے لیے متوقع تھی لیکن فائنل کے نتائج نہ صرف اس مقابلے کے بلکہ فٹبال کی تاریخ کے سب سے غیر متوقع نتائج ثابت ہوئے۔

یہ 1950 میں 16 جولائی کی بات ہے جب برازیل کے شہر ریو ڈی جینرو میں واقع ماراکانا سٹیڈیم میں دو لاکھ برازیلی شائقین اپنی ٹیم کی فتح کا منظر دیکھنے کے لیے موجود تھے۔ یوراگوئے کے ونگر السیدس گیگا اپنی یادوں میں اس دن کے منظر کو تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’سارا ماحول گرم جوشی سے بھرا ہوا تھا، برازیلی شائقین پریقین تھے کہ وہ عالمی کپ جیتے ہوئے ہیں۔ بس میچ شروع ہونے کی دیر ہے۔‘

گراؤنڈ کے ایک کنارے برازیل کا ایک سامبا بینڈ خاص طور سے بنایا جانے والا ایک نیا نغمہ ’برازیل فاتح‘ بجانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ مقامی اخبار پہلے ہی ’عالمی کپ کا چیمپیئن‘ کے عنوان سے پیشگوئیوں پر مبنی خصوصی ضمیمے شائع کر چکے تھے۔

1950 کے ورلڈ کپ کو جیتنا برازیل کی قومی ترجیح بن چکا تھا۔ حکومت کا توقع تھی کہ میچ میں فتح ملک کو متحد کر دے گی اور اس کے لیے ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت بننے کی راہ ہموار کر ہو جائے گی۔

اسی خیال سے وسیع تر ماراکانا سٹیڈیم کی تعمیر کی گئی تھی جسے تب دنیا کا سب سے بڑا فٹبال سٹیڈیم قرار دیا جا رہا تھا۔

ریو ڈی جنیرو کی دس فیصد آبادی تاریخ ساز فائنل دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں جمع تھی اور انھی میں ہاؤلوم ڈی البکارکو بھی تھا جو اس وقت صرف گیارہ سال کا تھا اور سکول میں پڑھتا تھا۔

گیگا اس دن کو یادوں میں تازہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’سب کا خیال تھا کہ ہمیں کم سے کم تین یا چار صفر سے شکست ہو گی۔ میں میدان میں تھا اور سٹیڈیم میں بیٹھے ہجوم کی طرف دیکھنے سے گریز کر رہا تھا۔‘

برازیل نے پچھلے دو میچوں اپنی حریف ٹیموں کے خلاف 13 گول کیے تھے اس لیے دوسروں کی طرح البکار کو بھی یقین تھا کہ چھوٹے سے یوراگوئے کی ٹیم کی تقدیر پر شکست کی مہر لگانا محض ایک رسمی کارروائی ہے۔

کھیل شروع ہوا اور برازیلیوں نے میدان پر خود کو مسلط کر دیا۔ پہلے نصف کے 45 منٹوں میں انھیں کئی عمدہ مواقع ملے لیکن انھوں پہلا نصف ختم ہونے سے صرف دو منٹ پہلے ایک گول کیا۔ البکارکو اور اس کے والدین نے یہ سوچ کر جشن کا آغاز کر دیا کے فتح کی ابتدا ہو گئی ہے۔

سٹیڈیم میں موجود دو لاکھ تماشائی ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے: ’دیکھا تم نے، دیکھا تم نے، شروع ہو گیا ۔۔۔ میں تو تم سے پہلے ہی کہہ رہا تھا۔‘

لیکن ہوا یہ کہ برازیل کے اس گول نے پانسہ پلٹ دیا۔ گیگا کہتے ہیں ’ہمارے کپتان نے ہمیں جمع کیا اور کہا سنو! یہ میچ جیتنا ہے اور ہمیں جیتنا ہے۔ حملہ کرو، حملے پر حملہ اور ہم نے حملے پر حملے شروع کر دیے۔‘

کھیل کے 66 ویں منٹ میں ہوان البرٹو شیافینو نے گول کیا اور یوراگوئے پر برازیل کی برتری ختم کر دی۔

کھیل ختم ہونے میں گیارہ منٹ تھے جب بال ایک بار پھر میرے قبضے میں آئی اور برازیلی گول کیپر مواسر باربوسا کو بے بس کرتی ہوئی گول میں داخل ہو گئی۔

’جب بال میرے پاس آئی تو باربوسا نے مجھے بے یقینی سے دیکھا۔ وہ اندازہ کرنا چاہتا کہ میں کیا کرنے والا ہوں۔ وہ گول میں ایسے کھڑا تھا کہ اُس کے اور گول پوسٹوں کے درمیان ساری جگہ گھری ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

’میرے پاس ایک سیکنڈ یا شاید اُس سے سے بھی کم وقت تھا۔ میں نے کک لگائی، بال گول کی پوسٹ سے ٹکرائی اور گول میں داخل ہو گئی۔ یہ میری زندگی کا سب بہترین گول تھا۔‘

لیکن جیسے ہی میں گول کی خوشی منانے کے لیے پلٹا تو میں نے محسوس کیا کہ چاروں طرف کچھ عجیب سا ہے۔ ایک خلاف معمول خاموشی ایک سکتہ، جس کے بوجھ سے پورا عظیم سٹیڈیم دھنستا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔

فرینک سناترا اور پوپ کے بعد میں دنیا کا تیسرا آدمی تھا جس نے ماراکانا سٹیڈیم پر خاموشی اور چپ کا ایسا بوجھ طاری کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’پھر ہم ناچنے لگے۔ خوشی ہمیں پاگل کرنے لگی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں سٹیڈیم میں بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھتا تو مجھے برازیلیوں سے کچھ ہمدردی ضرور محسوس ہوتی لیکن میں تو یوراگوین تھا۔ میں نے یوراگوئے کے لیے فٹبال کا عالمی کپ جیتا تھا اور یہ میری زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تھا، مجھے اس خوشی میں ناچنے کا پورا حق تھا۔‘

البکارکو بھی ان لوگوں میں شامل تھا جن کے اعصاب خاموشی نے شل کر دیے تھے۔ البکارکو اُس لمحے کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں ’یہ کچھ یوں تھا کہ جیسے آپ کسی ایسے دوست کے گھر میں ہوں جس کے والد یا والدہ کا کچھ دیر پہلے انتقال ہوا ہو۔ وہ لمحہ تو ایسا تھا کہ ہم اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے لیکن ہم چپ تھے۔‘

تدفین کے اس ماحول نے لگتا تھا کہ ان برازیلی کھلاڑیوں کی روح ہی نچوڑ لی جو کھیل کے آخری لمحوں کے دوران یوراگوئے کو ٹیم کو دباؤ میں لانے میں ناکام رہے۔

کھیل ختم ہونے کی سیٹی بجی۔ سٹیڈیم پر وہی خاموشی طاری تھی۔ کئی منٹ گذر گئے، کوئی بھی اپنی نششت سے نہیں اٹھا، ایسا لگتا تھا جیسے ان کے لیے کھیل ختم نہیں ہوا تھا۔

ابکارکو کہتے ہیں ’دس یا پندرہ منٹ گذر گئے۔ ہم جہاں تھے وہیں بیٹھے تھے۔ مجھے بالکل یاد نہیں کہ اس دوران کیا ہوا۔ ہم نے کیا سوچا۔ بس اتنا یاد ہے کہ یوں لگتا تھا کہ کوئی انتہائی اندوہناک واقعہ ہے جو ہمیں پیش آ گیا ہے۔ پھر معلوم نہیں کب سٹیڈیم میں بیٹھے لوگوں کے آنسو بہنے لگے۔ گراؤنڈ میں کھلاڑی بھی رو رہے تھے۔ یوراگوئے کے کھلاڑی بھی رو رہے تھے لیکن ان کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو خوشی اور بے یقینی کے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برازیل نے فائنل سے پہلے کے دو میچوں اپنی حریف ٹیموں کے خلاف 13 گول کیے تھے اس لیے دوسروں کی طرح البکار کو بھی یقین تھا کہ چھوٹے سے یوراگوئے کی ٹیم کی تقدیر پر شکست کی مہر لگانا محض ایک رسمی کارروائی ہے۔

گیگا کہتے ہیں ’پھر ہم ناچنے لگے۔ خوشی ہمیں پاگل کرنے لگی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں سٹیڈیم میں بیٹھے لوگوں کی طرف دیکھتا تو مجھے برازیلیوں سے کچھ ہمدردی ضرور محسوس ہوتی لیکن میں تو یوراگوئن تھا۔ میں نے یوراگوئے کے لیے فٹبال کا عالمی کپ جیتا تھا اور یہ میری زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تھا، مجھے اس خوشی میں ناچنے کا پورا حق تھا۔‘

ہار نے ریو ڈی جینرو کو اداسی کی چادر اوڑھا دی۔اکثر بار بند ہو گئے۔ ایسا لگنے لگا جیسے شہر زی روحوں سے خالی ہو گیا ہو۔ سارے لوگ گھروں میں بند ہو گئے۔

برازیل کے فٹبال ہیرو پیلے نے میچ کی خبر گھر پر سنی۔ وہ اب تک اس بات کو بھول نہیں پائے کہ انھوں نے اپنی والد کو زندگی میں پہلی بار روتے ہوئے دیکھا۔

گیگا کا کہنا ہے کہ برازیل نے پانچ بار عالمی کپ جیتا ہے۔ لیکن جب بھی وہ برازیل جاتے ہیں برازیلیوں کے باتوں سے یہ محسوس کیے بغیر رہ نہیں پاتے کہ 1950 کا گھاؤ اب تک نہیں بھرا۔

اس سال گیگا کو قرعہ اندازی کے برازیل بلایا گیا۔ برازیل میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیے دیا گیا۔ استقبالیے کا ماحول انتہائی دوستانہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود بھی کئی اہلکار ان سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکے ’ہم نہیں چاہتے کہ 2014 کا فائنل 1950 جیسا ہو۔‘

اسی بارے میں