ورلڈ کپ:انگلینڈ 68 برس بعد پہلے راؤنڈ میں باہر

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ریو فرڈینینڈ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی شکست کی وجہ تجربے کی کمی رہی

فٹبال ورلڈ کپ مقابلوں میں انگلینڈ کا سفر تمام ہوگیا ہے اور 68 برس بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انگلش ٹیم پہلے مرحلے سے ہی آگے نہیں بڑھ پائی ہے۔

اس سے قبل 1958 کے ورلڈ کپ میں انگلش ٹیم گروپ سٹیج پر ہی ہمت ہار گئی تھی۔

برازیل 2014: فٹبال ورلڈ کپ پر خصوصی ضمیمہ

2014 کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی دونوں ابتدائی میچوں میں شکست کے بعد ٹورنامنٹ میں اس کی بقا کا دارومدار اٹلی کی اس کے بقیہ دونوں میچوں میں فتح پر تھا۔

تاہم جمعے کو ایکواڈور کے ہاتھوں شکست نے جہاں خود اٹلی کی اگلے مرحلے میں رسائی نسبتاً مشکل بنا دی ہے وہیں انگلینڈ کے لیے صرف گھر واپسی کا راستہ باقی بچا ہے۔

ایسا بھی پہلی بار ہوا ہے کہ انگلینڈ نے فٹبال ورلڈ کپ میں اپنے ابتدائی دونوں میچ ہارے ہیں۔

اسے پہلے میچ میں اٹلی نے دو ایک اور دوسرے میچ میں یوروگوائے نے اسی سکور سے ہرایا۔

اب انگلینڈ نے اپنا آخری میچ کوسٹاریکا کے خلاف کھیلنا ہے لیکن اس میں فتح بھی اسے اگلے راؤنڈ میں نہیں پہنچا سکے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انگلش شائقین کو اپنی ٹیم کے اتنی جلدی اخراج کا یقین ہی نہیں آ رہا

اٹلی کے خلاف شکست کے باوجود انگلش ٹیم کی اس میچ میں کارکردگی کو سراہا گیا تھا لیکن یوروگوائے کے خلاف یہی ٹیم مسلسل غلطیاں کرتی دکھائی دی جس کا نتیجہ لوئس سواریز کے دو گولوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔

انگلش فٹبال ٹیم کے سابق دفاعی کھلاڑی ریو فرڈینینڈ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کی شکست کی وجہ تجربے کی کمی رہی لیکن ان کے خیال میں یہ ٹورنامنٹ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کا بہترین موقع ثابت ہوا۔

جمعے کو انگلش فٹبال ٹیم نے ورلڈ کپ میں آگے بڑھنے کے خواب کو ریو میں اپنے ہوٹل میں بیٹھ کر چکناچور ہوتے دیکھا۔

اس بدترین کارکردگی کے باوجود انگلش ٹیم کے کوچ روائے ہوجسن نے مستعفی ہونے سے انکار کیا ہے اور انگلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن کے چیئرمین گریگ ڈائیک نے بھی کہا ہے کہ ہوجسن کی نوکری کو کوئی خطرہ نہیں۔

جمعے کو ڈائیک کا کہنا تھا کہ ’ہم روائے کے ساتھ ہیں۔ وہ چار برس کے لیے آئے تھے اور میں لوگوں کو یہ سوال کرتے دیکھ رہا ہوں کہ وہ کیا ٹھہریں گے تو اس کا جواب ہے ، ہاں وہیں یہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں