برازیل کی پنلٹی ککس پر جیت، چلی مقابلے سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برازیلی گول کیپر ژولیو سیزر نے دو پنلٹی ککس بچا کر ٹیم کو شکست سے بچا لیا

ورلڈ کپ 2014 کے دوسرے مرحلے میں برازیل نے پنلٹی ککس پر چلی کو ہرا کر کواٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے جہاں اس کا مقابلہ یوروگوائے یا کولمبیا سے ہوگا۔

بیلو ہاروزینٹے کے اسٹڈا منرا میں کھیلا گیا میچ دونوں ایک ایک گول سے برابر رہا اور ایکسٹرا ٹائم میں بھی کوئی ٹیم گول کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

برازیل کی جانب سے ڈیوڈ لوئس نے پہلی پنلٹی پر گول کیا لیکن چلی نے پہلی اور دوسری پنلٹی ککس ضائع کیں۔ برازیل دوسری پنلٹی پر گول نہ کر سکا اور ویلین کی کک گول سے باہر چلی گئی۔

برازیل کے مارسیلو نے تیسری پنلٹی پر گول لیکن ہلک نے چوتھی پنلٹی ضائع کردی۔ ادھر چلی نے تیسری اور چوتھی پنلٹی پر گول کر کے میچ دو دو گول سے برابر کر دیا۔ میچ کی پانچویں پنٹلی پر نیمار نےگول کر دیا جو فیصلہ کن ثابت ہوا۔ چلی نے پانچویں اور آخری پنلٹی کو ضائع کر کے میچ برازیل کےنام کر دیا۔

برازیل نے پہلے ہاف میں ڈیوڈ لوئس کےگول کے ذریعے برتری حاصل کر لی لیکن یہ برتری زیادہ برقرار نہ رہ سکی جب چلی کے سنٹر فاروڈ ایلکسس سانچز نے گول کے آدھے موقع کو پورے موقع میں بدل دیا۔

ایلکسس سانچز کی برازیلی گول پر پہلی کوشش تھی اور وہ اس میں کامیاب رہے۔ ہسپانوی کلب بارسلونا کے لیے کھیلنے والے ایلکسس سانچز نے رواں ورلڈ کپ میں چلی کی ہر فتح میں اہم کردار ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیمار نے پانچویں پنلٹی کک پر گول کر کے ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا

پہلے ہاف کے اختتام پر میچ ایک ایک گول سے برابر تھا لیکن دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا تھا۔ برازیلی ٹیم کو گول کرنے کے زیادہ مواقع ملے لیکن وہ صرف ایک گول کر سکی۔ چلی کو گول کرنے کے دو بڑے موقعے ملے جن میں سے ایک پرگول کر کے میچ برابری پر لا کھڑا کیا تھا۔

دوسرے ہاف کے شروعات میں ہی برازیلی سنٹر فاروڈ فریڈ نے گول کردیا اور برطانوی ریفری ہاورڈ ویب نے پہلےگول مان لیا لیکن چند لمحوں بعد اسٹنٹ ریفری سے مشورے کے بعد گول کو مسترد کر دیا۔ ریفری کی نظر میں فریڈ نےگیند کو قابو کرنے کے کوشش کے دوارن ہاتھ کا استعمال کیا۔

بی بی سی کےجان سوپل نے اس موقع پر کہا کہ: ’اگر برازیل یہ میچ ہار گیا تو ہاورڈ ویب چھٹی کی غرض سے برازیل میں زیادہ دیر تک نہیں رک سکیں گے۔‘

گول مسترد ہونے کے بعد برازیلی ٹیم بجھی بجھی نظر آنے لگی اور چلی کی ٹیم زیادہ متحرک ہو گئی۔ مقررہ وقت کے ختم ہونے میں چند سکینڈ ہی رہ گئے تھے جب چلی گول کا موقع ملا لیکن کھلاڑی کی کک گول پوسٹ سے ٹکرا باہر چلی گئی۔

جب مقررہ وقت میں دونوں ٹیمیں ایک ایک گول سے برابری پر تھیں تو میچ ایکسٹرا ہاف میں چلا گیا۔ ایکسٹرا ہاف کے تیس منٹوں کے کھیل میں بھی کوئی ٹیم گول نہ کر سکی اور میچ کا فیصلہ پنلٹی ککس پر ہوا۔

چلی کے گول کیپر براؤ نے انتہائی شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور کئی یقینی گول بچائے لیکن پنلٹی شوٹ آؤٹ میں وہ اپنے حریف ژولیو سیزر کو مات نہ دے سکے جس نے دو پنٹلی ککس بچا کر برازیل کو ٹورنامنٹ میں رکھا۔

چلی نے کبھی بھی برازیل کو برازیلی سرزمین پر شکست نہیں دی ہے لیکن آج کے میچ چلی کی ٹیم جس انداز میں کھیلی رہی تھی ماہرین فٹبال یہ کہنے لگے تھے کہ شاید چلی کی موجودہ ٹیم تاریخ کو بدلنے کے ارادے سے میدان میں اتری ہے۔ لیکن تاریخ نہ بدلی جا سکی اور چلی ایک اور شکست کے بعد وطن ہوگئی ہے۔

برازیلی کوچ برازیل کے کوچ فلیپے سکولاری نے ورلڈ کپ سے پہلے کہا تھا کہ وہ اگر کسی ٹیم سے بچنا چاہتے ہیں تو وہ چلی کی ٹیم ہے۔ جب یہ واضح ہوگیا کہ برازیل اور چلی کے مابین ناک آؤٹ کے مرحلے کا پہلا میچ کھیلا جائےگا تو سکولاری نے کہا تھا کہ معاملات پھنس گئے۔