فٹبال ورلڈکپ: ٹکٹوں کی غیرقانونی فروخت میں ملوث گروہ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے چار ورلڈ کپ مقابلوں میں یہ دھندا کرنے کا اعتراف کیا ہے

برازیل میں پولیس نے فٹبال ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی غیر قانونی فروخت میں ملوث عالمی گروہ کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس نے اس گروہ کے 11 ارکان کو گرفتار کیا ہے جن سے ایک سو ٹکٹ، کمپیوٹر، امریکی ڈالر، موبائل فون اور کاغذات برآمد کیے گئے ہیں۔

برآمد کیے جانے والے ٹکٹوں میں سے کچھ سپانسروں کے کوٹے کے ہیں جبکہ کچھ برازیلی ٹیم کی انتظامیہ کے لیے تھے۔

پولیس کا خیال ہے کہ ایسے ہی کچھ ٹکٹ غیر ملکی سیاحوں کو فروخت کیے گئے تھے۔

حکام کا خیال رہا ہے کہ یہ گروہ گذشتہ چار ورلڈ کپ سے اس کام میں مصروف تھا اور اس دوران اس نے ہر مقابلے میں تقریباً نو کروڑ ڈالر کمائے۔

یہ گرفتاریاں برازیلی پولیس کے خصوصی آپریشن کے دوران عمل میں آئیں جس کے لیے 20 مقامات کی تلاشی کے وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔

اس آپریشن کو ’جولیس ريمٹ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

جولس ريمٹ فٹبال کی عالمی فٹبال فیڈریشن یعنی فيفا کے صدر تھے اور انھی نے 1929 میں ورلڈ کپ مقابلوں کا آغاز کیا تھا۔

ریو ڈی جنیرو میں موجود بی بی سی کے نمائندے وائر ڈیویز کے مطابق پولیس نے اس گروہ کی سرگرمیوں پر تین ماہ سے نظر رکھی ہوئی تھی۔

پولیس الجزائر سے تعلق رکھنے والے محمدو لمین فوفانا کو اس گروہ کا ممکنہ سرغنہ قرار دے رہی ہے جنھیں ’فیفا کے عام افراد کے لیے ممنوع علاقوں تک بھی باآسانی رسائی حاصل تھی۔‘

تحقیقات میں شامل سینیئر پولیس افسر فابيو باروك نے کہا ہے کہ ’ایسے سراغ ملے ہیں جن سے لگتا ہے کہ ان کا فيفا کے کسی اہلکار سے رابطہ تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ محمدو کی کار پر ایک ایسا سٹکر چسپاں تھا جو انھیں فیفا کی کسی بھی نجی تقریب میں داخلے کی اجازت دیتا تھا۔

پولیس افسر کے مطابق ملزمان نے چار ورلڈ کپ مقابلوں میں یہ دھندا کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عین ممکن ہے کہ یہ گروہ صرف ورلڈ کپ کے دوران ہی سرگرم ہوتا ہو کیونکہ ان کا منافع اتنا زیادہ تھا کہ وہ باقی وقت آرام سے بیٹھ کر کھا سکتے تھے۔ یہ گروہ مقابلوں کے درمیان وقفے میں اگلے میزبان ملک کا رخ کرتا تھا۔‘

گرفتار کیے جانے والے افراد پر منی لانڈرنگ، مجرمانہ سرگرمیوں اور ٹکٹوں کی غیرقانونی فروخت کے الزامات کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں