پچپن سال بعد پانچ ٹیسٹ

بھارتی ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption کئی سٹار کھلاڑیوں کے جانے کے بعد بھارتی ٹیم ازسرنو تیاری کے عمل سے گزر رہی ہے

انڈیا نے 1959 میں جب آخری بار انگلینڈ کے دورے پر پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلی تو اس وقت اس کے ساتھ جو برا ہو سکتا تھا وہ ہوا۔

انڈیا کو پانچوں ٹیسٹ میچوں میں بڑے مارجن سے شکست ہوئی اور انگلینڈ کے فریڈ ٹرومین اور برائن سٹیتھم جیسے فاسٹ باؤلروں کے آگے انڈیا کے بلے باز مکمل طور پر بے بس نظر آئے۔

انڈیا کو پہلے ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز سے شکست ہوئی اور اس میچ میں ٹرومین کی گیند پر ان کے سٹار بلے باز چندو بورڈے کی انگلی ٹوٹ گئی اور سپنر باپو ندکرنی نے ان کا بایاں ہاتھ زخمی کر دیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ میں انڈیا کو لارڈز میں آٹھ وکٹوں سے شکست ہوئی اور انڈیا کی جانب سے اس میچ میں سب سے زیادہ سکور کرنے والے ناری کانٹریکٹر کی سٹیتھم کی گیند پر پسلی ٹوٹ گئی۔

تیسرے میچ میں انڈیا کو ایک اننگز اور 173 رنز سے شکست ہوئی اور اگست کے مہینے میں اوول کے میدان میں انگلینڈ نے پانچواں میچ جیت کر تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹیسٹ سیریز کے پانچوں میچ جیت لیے۔ اس میچ میں ایک بھارتی تارکین وطن کے بیٹے رمن سوبا نے انگلینڈ کی جانب سے اوپن کیا اور 94 رنز سکور کر کے انڈیا کے زخموں پر مزید نمک چھڑک دیا۔

اس ناکام دورے میں انڈیا کی کارکردگی چوتھے ٹیسٹ میں تھوڑی بہتر رہی لیکن اس کا سہرا انڈیا سے آئی ہوئی ٹیم کو نہیں جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption محمد شامی انڈیا کی ٹیم میں شامل ہونے والے نئے فاسٹ بولروں میں سے ایک ہیں

عباس علی بیگ آکسفورڈ یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور ابھی انھوں نے انڈیا میں فرسٹ کلاس کرکٹ بھی نہیں کھیلی تھی۔ انڈیا سیریز تو ہار چکا تھا لیکن عباس علی بیگ کو ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اس میں شامل کر لیا گیا اور انہوں نے مِڈل سیکس کے خلاف سو رنز سکور کیے جس کے بعد انھیں چوتھے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں شامل کر لیا گیا جہاں انھوں نے تیسرے نمبر پر بیٹنگ کی۔

انھوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں رن آؤٹ ہونے سے پہلے 112 رنز بنائے لیکن اس کے باوجود انڈیا یہ ٹیسٹ 171 رنز سے ہار گیا۔

اس سیریز کے اختتام پر انگلش ناقدین کا کہنا تھا کہ انڈیا کی ٹیم اس لائق ہی نہیں کہ وہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیل سکے۔ اگلی پانچ دہائیوں میں انڈیا نے انگلینڈ میں صرف تین یا کبھی کبھار چار ٹیسٹ میچوں کی سیریز ہی کھیلیں۔

اب انڈیا کو 55 سال بعد اس قابل سمجھا گیا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف پانچ میچوں کی پوری سیریز کھیل سکے۔

یہ اعزاز انڈیا کو پہلے ملنا چاہیے تھا جب ٹیم میں تندولکر، دراوڈ، سہواگ، گنگولی اور لکشمن جیسے بہترین کھلاڑی موجود تھے۔

ان سپر سٹارز کے جانے کے بعد انڈیا کی ٹیسٹ ٹیم دوبارہ تیار ہو رہی ہے اور شاید 2011 میں انگلینڈ کے دورے پر چاروں ٹیسٹ میچ ہارنے والی ٹیم سے بہتر نہ ہو۔

یہ حیران کن بات ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ موجودہ بھارتی کھلاڑی پہلی مرتبہ پانچ میچوں کی سیریز کھیلیں گے یہاں تک کہ کپتان دھونی کو بھی یہ تجربہ حاصل نہیں ہے۔

دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف باقاعدگی سے پانچ ٹیسٹ میچوں کی ایشز سیریز کھیلتی ہے اور اس کے کئی موجودہ کھلاڑی اس کا تجربہ رکھتے ہیں۔

لیکن یہ وہ اہم وجہ نہیں جس وجہ سے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں انڈیا فیورٹ نہیں ہے۔

انڈیا نے انگلینڈ کے ماحول میں بہت کم اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔ انڈیا کی ٹیسٹ ٹیمیں 1932 سے انگلینڈ کا دورہ کر رہی ہیں لیکن وہ صرف تین بار 1971، 1986 اور 2007 میں انگلینڈ کو ہرا سکی ہیں اور ان میں سے دو بار وہ صرف 1 – 0 سے جیتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وراٹ کوہلی کو ’نیا تندولکر‘ بھی کہا جاتا ہے

انڈیا کی ان ناکامیوں کی کئی وجوہات دی جاتی ہیں: سرد موسم، تیز وکٹیں، اور اس ماحول کے عادی اور اس سے واقف انگلش بولروں کی سپیڈ اور سوِنگ۔ ان تمام چیزوں سے انڈیا ناواقف ہے کیوں کہ وہ انڈیا میں سست وکٹوں پر کھیلنے کے عادی ہیں۔

انڈیا کی بولنگ کی طاقت اس کی سپن بولنگ میں ہے، لیکن انگلش وکٹیں بڑے سے بڑے سپنر کا دل توڑ سکتی ہیں اور انڈیا کے فاسٹ بولر اکثر اوقات بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

انگلینڈ کا دورہ کرنے والی 18 کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کے بارے میں خدشات اور تنقید بظاہر درست لگتی ہے۔ لیسٹرشائر کے خلاف میچ میں ساتوں فاسٹ بولرز کو استعمال کیا گیا لیکن وہ اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔

تو کیا انڈیا کی اس ٹیم کے ساتھ وہی ہو گا جو 1959 میں ہوا تھا؟

میں نہیں سمجھتا کہ انڈیا کے پرانے کھلاڑیوں کے مقابلے میں فاسٹ بولرز کے خلاف موجودہ کھلاڑیوں کی تکنیک بہتر ہے لیکن وراٹ کوہلی اور چیتیشور شرما جیسے نوجوان کھلاڑی یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ ان عظیم کھلاڑیوں کے جانشین بننے کے لائق ہیں جن کی جگہ انھوں نے ٹیم میں لی ہے۔

لیسٹرشائر کے خِلاف میچ میں انڈیا کی بولنگ کا اعتماد سامنے آگیا تھا اور مجھے نہیں لگتا کہ وہ ایک میچ میں انگلینڈ کو دو بار آؤٹ کر سکیں گے۔ پوری سیریز میں دس بار آؤٹ کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔

اس صورتِ حال میں انڈیا کا سیریز جیتنا تو دور اگر وہ عزت کے ساتھ برابر ہی کر گئے تو اس پر جشن منایا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں