’کھلاڑی طالبات پر ممنوعہ ادویات کا استعمال ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پنجاب یونیورسٹی کی ڈائریکٹر سپورٹس شمسہ ہاشمی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے

پنجاب یونیورسٹی کی کھلاڑی طالبات کی جانب سے یونیورسٹی کی انتظامیہ پر ممنوعہ ادویات استعمال کروائے جانے کے الزامات عائد کیے جانے کے معاملے پر گورنر پنجاب نے وائس چانسلر سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ادھر ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات بے حد ضروری ہیں کیونکہ خواتین میں کارکردگی بڑھانے والی ادویات کے استعمال کے نقصانات ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔

پنجاب یونیورسٹی کی چند طالبات نے تین جولائی کو وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ایک درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انھیں یونیورسٹی کی سپورٹس انتظامیہ کی جانب سے کارکردگی بڑھانے والی ممنوعہ ادوایات زبردستی دی جا رہی ہیں جس سے ان میں بہت سی طبی پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

اس درخواست پر وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے تو کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا لیکن گورنر پنجاب نے جو کہ یونیورسٹی کے چانسلر بھی ہیں، اس معاملے کی رپورٹ طلب کی ہے۔

ان کھلاڑیوں میں شامل بشریٰ محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپورٹس انتظامیہ زبردستی انھیں ایک سے زیادہ ایونٹس میں حصہ لینے پر مجبور کرتی ہے جو ان کے بس سے باہر ہے اور انھیں فوڈ سپلیمنٹ کے نام پر ممنوعہ ادویات دی جاتی رہیں ہیں۔

بشری محمود کے بقول ان ممنوعہ ادویات کے استعمال پر وہ بیمار ہوگئیں اور انہیں ان کے معالج سے پتہ چلا کہ انہیں یہ ادویات دی گئی تھیں۔

بشری کے مطابق جب انہوں نے وہ انجیکشنز اور ادویات لینے سے انکار کیا تو انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے علم میں یہ معاملہ لائیں تو انھوں نے الٹا انھی کو ڈرایا دھمکایا۔

پنجاب یونیورسٹی کی ڈائریکٹر سپورٹس شمسہ ہاشمی نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ شمسہ ہاشمی کہتی ہیں کہ جن پانچ طالبات نے یہ درخواست دی تھی ان میں سے دو نے تو اپنا بیان بھی تبدیل کر لیا ہے۔

کھلاڑی طالبات کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیرِاعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک آزاد کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کرے اور اس سال انٹر یونیورسٹی چمپیئن شپ میں کشتی رانی اور سائیکلنگ چمپیئن شپ جیتنے والی لڑکیوں کا ڈوپ ٹیسٹ کروایا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائےگا۔

اس بات سے قطع نظر کہ طالبات اور یونیورسٹی انتظامیہ میں سے کون صحیح ہے اور کون غلط یہ ممنوعہ ادویات کسی خاتون کھلاڑی کے لیے کیسے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس ضمن میں جنرل کیڈر ڈاکٹر ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ڈاکٹر مسعود اختر کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا کسی کھلاڑی کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان ادویات سے خواتین میں مردانہ خواص پیدا ہو جاتے ہیں، ان کی ظاہری ہیئت میں تبدیلی آ سکتی ہے اور ان کی تولیدی صلاحیت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر مسعود اختر کا کہنا ہے کہ کھلاڑی طالبات کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات ضروری ہیں اور اگر یہ ثابت ہو کہ انہیں زبردستی ایسی ادویات دی گئیں تو متعلقہ لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔

کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کا استعمال ایک عالمی مسئلہ ہے لیکن پاکستان میں اس کی نوعیت اس لیے بھی سنگین ہے کیونکہ یہاں کی نوجوان کھلاڑی خواتین میں ایسی ادویات کے استعمال کے بدترین طبی اثرات کے بارے میں آگہی کی کمی ہے۔