’فٹبال برازیل میں صرف مردوں کا کھیل ہے‘

Image caption میں ساری زندگی فٹبال کھیلنا چاہتی ہوں اور اسے پیشہ بنانا چاہتی ہوں: بیاتریس گریدو

فٹبال کا کھیل برازیلی عوام کے خون میں ہے اور شاید ہی کوئی برازیلی شہری ایسا ہوگا جو اس کھیل میں دلچسپی نہ رکھتا ہو۔

تاہم برازیل میں فٹبال کی خواتین کھلاڑی شکوہ کرتی نظر آتی ہیں کہ ملک میں اس کھیل پر مردوں کی اجارہ داری ہے اور انھیں امتیازی سلوک اور وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

برازیل میں فٹبال ورلڈ کپ کے انعقاد کے موقع پر ملک میں خواتین کی فٹبال پر توجہ مبذول کروانے کے لیے بھی کئی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

ان مقابلوں میں ملک بھر میں پھیلے ’فاویلاز‘ یا غریب آبادیوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں حصہ لے رہی ہیں۔

فٹبال کی شوقین ان لڑکیوں کو سماجی و معاشرتی مسائل کا سامنا ہے۔

ریو ڈی جنیرو کی ایک نوجوان کھلاڑی گیبریلیا ڈی سلوا نے بی بی سی کی جولیا کارنیرو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’خواتین کے لیے فٹبال کھیلنا مشکل ہے کیونکہ مرد کہتے ہیں کہ یہ ان کا کھیل ہے۔‘

برازیل آج بھی ایک صنفی امتیاز پر مبنی معاشرہ ہے اور 1979 تک تو خواتین کے فٹبال کھیلنے پر ہی پابندی عائد تھی۔

بیا واز برازیل میں خواتین کی قومی فٹبال ٹیم کی رکن ہیں اور خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہیں کہ وہ ملک کی زیادہ تر خواتین فٹبالروں کے برعکس اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں جب فٹبال کے میدانوں میں جاتی ہوں تو ہر طرف صرف مردوں کو کھیلتا دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ ایسی بہت لڑکیاں ہیں جو کھیل سکتی ہیں کیونکہ وہ فٹبال کھیلنا چاہتی ہیں لیکن ان کے پاس جگہ ہی نہیں۔ یہ بہت پریشان کن بات ہے۔‘

فاسکو برازیل کے بڑے فٹبال کلبوں میں سے ایک اور ان چند کلبوں میں شامل ہے جس نے گذشتہ دہائی میں خواتین کی فٹبال میں سرمایہ کاری کی ہے۔

یہ واحد کلب ہے جو جونیئر سطح پر خواتین کھلاڑیوں کی تربیت کرتا ہے لیکن اب بھی خواتین کے لیے مختص رقم مردوں کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

کلب میں تربیت پانے والی بیاتریس سانتوس گریدو کا کہنا ہے کہ ’ایک لڑکی کے لیے فٹبال کھیلنے کا معاملہ بہت پیچیدہ ہے۔ مردوں کی ٹیموں کو سب کچھ ملتا ہے چاہے وہ وردی ہو یا میچ کھیلنے جانے کے لیے بس، لیکن ہمارے یہ ہمیشہ یہ سب حاصل کرنا جنگ کے مترادف ہوتا ہے۔‘

15 برس سے خواتین کھلاڑیوں کی کوچنگ کرنے والے ہورہے بارسیلوس کا کہنا ہے کہ ’کلب خواتین کی فٹبال میں سرمایہ کاری میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ آپ ایک 13 سالہ لڑکے کی تربیت کرتے ہیں اور جلد ہی وہ 20 لاکھ ڈالر میں فروخت ہو جاتا ہے، خواتین کی فٹبال میں ایسا کچھ نہیں اس لیے کلب ان میں دلچسپی نہیں لیتے۔‘

اس صورتحال میں بیاتریس جیسی نوجوان خواتین فٹبالرز ملک چھوڑ کر کینیڈا جیسے ممالک میں سکالرشپ حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میں ساری زندگی فٹبال کھیلنا چاہتی ہوں اور اسے پیشہ بنانا چاہتی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کہ یہاں برازیل میں لوگ میری مثال دیں اور ہر کوئی میرے جیسا بننا چاہے۔‘

برازیل میں خواتین کے لیے فٹبال کی میدان میں بہت سی رکاوٹیں ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ بیاتریس جیسی لڑکیاں کب نیمار جیسی شہرت اور رتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں