’برازیل کی شکست ایک کڑوی لیکن ضروری دوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ شکست مداحوں اور کھلاڑیوں کے ذہن پر ایک گہرا اور عرصۂ دراز تک قائم رہنے والا اثر چھوڑ گئی ہے

برازیلی لیجنڈ پیلے کی طرف سے بہترین کھلاڑی کا لقب حاصل کرنے والے ززنیو کو 1950 کے ورلڈ کپ کا پلیئر آف ڈی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا تھا۔

یہ وہی ورلڈ کپ تھا جس میں برازیل کو یوروگوائے کے خلاف فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ززنیو اپنی سوانح حیات کے پہلے صفحے پر لکھتے ہیں: ’میں نے 19 سال فٹبال کھیلی، متعدد فتوحات حاصل کیں، لیکن مجھے اب بھی ایک ہارنے والے کھلاڑی کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔‘

پانچ دہائیوں کے بعد بھی آج بھی اس میچ کی یاد برازیلی مداحوں کو غمگین کر دیتی ہے۔

اس ورلڈکپ کے شروع ہونے سے پہلے برازیلی ٹیم سے بالکل یہ توقع نہیں کی جارہی تھی کہ لوئس سکولاری کے کھلاڑیوں کو ایسی کسی صورتِ حال کا سامنا ہوگا۔

اگر شکست ہوئی تو اس کا دکھ تو ضرور ہوگا لیکن اس طرح کی ذلت دوبارہ ملے گی، یہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔

منگل کے سیمی فائنل کی شکست مداحوں اور کھلاڑیوں کے ذہنوں پر گہرا اور عرصۂ دراز تک قائم رہنے والا اثر چھوڑ گئی ہے۔

یہ یاد ایک کڑوی لیکن ضروری دوا ہے۔ برازیلی مداح اب اس ہار کے بعد یہ بالکل نہیں کہہ سکتے کہ برازیلی فٹبال کو مسائل کا سامنا نہیں ہے۔

برازیل میں کلب فٹبال مسخ شدہ حالت میں ہے جس میں نئے خیالات کی کمی نہ صرف میدان کے اندر بلکہ باہر بھی نظر آتی ہے۔

یورپ کی چیمپیئنز لیگ کی طرز پر کھیلے گئے جنوبی امریکی فٹبال ٹورنامنٹ کوپا لیبرٹاڈوز کو برازیلی کلب لگاتار چار سال سے جیت تو رہے ہیں لیکن برازیلی کھلاڑی اور دوسرے جنوبی امریکی کھلاڑیوں میں زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وقت آگیا ہے کہ برازیل اب اپنے کھیل کی تاریخی شناخت کو ایک نئے بین الاقوامی زاویے میں ڈھالے

اس سال کوئی بھی برازیلی ٹیم پہلی بار کوپا لیبرٹاڈوز کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کر پائی اور برازیلی ماہرین کا خیال تھا کہ ورلڈکپ میں فتح ملک کی فٹبال میں موجود خامیوں پر پردہ ڈال دے گی۔

تاہم اب ایسا نہیں ہوگا، برازیل کی یہ شکست برازیلی ماہرین کے اس خوف کو خاموش کروانے کے لیے بہت ہے۔

برازیل کے فٹبال کوچز کا کہنا ہے کہ برازیل اب 1982 کے سنہرے دور کے طر‏‏‏‏‏ز کی فٹبال نہیں کھیل سکتا۔ ان کے مطابق کھیل تبدیل ہو چکا ہے۔

برازیل ماضی میں کھیل کو تیز رکھ کر میچ میں فتح حاصل کرتا تھا تاہم اب وہ انفرادی کارکردگی پر انحصار کرتا ہے۔

تاہم برازیلی کلب سینٹوس کو شکست دینے والی ہسپانوی ٹیم کے مینیجر پیپ گارڈیولا کا کہنا ہے کہ یہ غلط ہے۔

فیفا کلب ورلڈ کپ کے فائنل میں جب بارسلونا نے برازیلی کلب سینٹوس کو شکست دی تو بارسلونا کے کوچ پیپ گارڈیولا نے کہا کہ اس میچ میں ان کی ٹیم نے برازیلی فٹبال کے بزرگوں کی طرح فٹبال کھیلی۔

بارسلونا کے اس انداز اور گیند کو کنٹرول کرنے والے کھلاڑیوں کے تکنیک کے ملاپ نے فٹبال کے کھیل کے معیار کو اور بھی بڑھا دیا۔ دوسری طرف جرمن فٹبال ماہرین برازیلی کھیل کو سمجھتے گئے جبکہ دیگر ملکوں نے بھی ان کی تیزی کو روکنے کی نت نئی تکنیکوں پر غور کرنا شروع کردیا۔

وقت آگیا ہے کہ برازیل اب اپنے کھیل کی تاریخی شناخت کو ایک نئے بین الاقوامی زاویے میں ڈھالے جس طرح 13 سال قبل جرمنی نے انگلینڈ سے 5-1 کی شکست کے بعد کیا تھا۔

آٹھ جولائی برازیل کی تاریخ میں ایک اہم باب ہونا چاہیے۔ لیکن یہ وقت ہی بتائے گا کہ یہ باب آفت کا تھا یا پھر دنیا کی سب سے بڑی فٹبال طاقت کے دوسرے جنم کا۔

اسی بارے میں