سیٹھی چیئرمین کے عہدے سے ایک بار پھر فارغ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کی منظوری وزیر اعظم نے دے دی ہے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سمیت بورڈ کی مینیجمنٹ کمیٹی کو کام کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

اس ضمن میں وفاقی حکومت کی طرف سے ایک نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا گیا جس کے مطابق سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جمشید علی کو کرکٹ بورڈ کا نیا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے متعلق کرکٹ بورڈ کے سابق صدر ذکا اشرف اور نجم سیٹھی کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے عد الت میں نوٹیفکیشن پیش کیا جس کے مطابق سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جمشید علی کو ایک ماہ کے لیے کرکٹ بورڈ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اُنھیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں انتخابات کروانے کے لیے چیف الیکشن کمشنر بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جمشید علی سپریم کورٹ کے اُن ججوں میں شامل تھے جنھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کر دیا تھا۔ تاہم اُنھوں نے اُس وقت کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے دوبارہ اپنے عہدے کا حلف لے لیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کی منظوری وزیراعظم نے دے دی ہے اور اس ضمن میں بورڈ میں انتخابات کروائے جائیں گے۔

اٹارنی جنرل کے بقول نجم سیٹھی کو چیئرمین کے عہدے سے ہٹا کر تین رکنی بورڈ میں شامل کیا گیا ہے، جس پر کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ذکاء اشرف کے وکیل نے اعتراض کیا اور تجویز دی کہ اُن کی جگہ سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کو بورڈ میں شامل کیا جائے۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس ثاقب نثار نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ وزیرِ اعظم سے پوچھ کر بتائیں کہ کیا نجم سیٹھی کی جگہ کسی دوسرے شخص کو بورڈ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

نجم سیٹھی کی وکیل عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ کرکٹ بورڈ کے آئین کے نئے مسودے کے تحت انتخابات میں بورڈ کے چیئرمین کے عہدے کے اُمیدوار کے لیے گریجویٹ کی شرط رکھی گئی ہے تاکہ اُسے کرکٹ کے امور میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور دیگر کرکٹ بورڈوں کے ساتھ رابطے میں آسانی ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر کرکٹ بورڈ کا چیئرمین قواعد سے ہٹ کر کوئی کام کرتا ہے تو بورڈ کے سرپرستِ اعلیٰ یعنی وزیر اعظم کو اُنھیں ہٹانے کا اختیار ہوگا۔

جسٹس ثاقب نثار نے سوال اٹھایا کہ نجم سیٹھی اس وقت سپریم کورٹ کے حکمِ امتناعی پر بورڈ کے چیئرمین ہیں اور ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے اس بارے میں عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ عدالت نے خود ہی حکومت کو کرکٹ بورڈ میں تبدیلی لانے کا اختیار دیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ یہ معاملہ عدالتوں میں ہے جس کی وجہ سے اس میں پیچیدگی آرہی ہے۔

بعدازاں عدالت نے اس مقدمے کی سماعت جمعے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں