دو کھلاڑیوں نے پہلی پنلٹی لگانے سے انکار کیا: ڈچ کوچ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈچ گول کیپر یاسپر نے اپنے کریئر میں کوئی پنلٹی نہیں روکی

ہالینڈ کے کوچ لوئس وان گال نے کہا ہے کہ عالمی فٹبال کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں ارجنٹائن کے خلاف ان کی ٹیم کے دو کھلاڑیوں نے پہلی پنلٹی کک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔

بدھ کو کھیلے گئے اس میچ میں ارجنٹائن نے ہالینڈ کو پنلٹی شوٹ آؤٹ میں دو کے مقابلے میں چار گولوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی۔

وان گال نے کہا کہ ’رابن فلار کے پنلٹی لگانے کے لیے سامنے آنے سے پہلے میں نے دو کھلاڑیوں کو پنلٹی کک لگانے کا کہا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نے سوچا کہ وہ میدان میں بہترین کھلاڑی ہیں، اس لیے ان میں اعتماد ہونا چاہیے۔‘

ہالینڈ کے دفاعی کھلاڑی فلار نے ہالینڈ کی طرف سے پہلی پنلٹی کک لگائی لیکن اسے ارجنٹائن کے گول کیپر سرخیو رومیرو نے روک لیا۔

ڈچ کوچ نے کہا کہ ’اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنلٹی شوٹ آؤٹ میں گول کرنا آسان نہیں ہوتا۔‘

انھوں نے میچ کے بارے میں کہا: ’پنلٹی پر شکست کھانا بہت ہی خراب بات ہوتی ہے۔ اگر ہم ان سے اچھے نہیں تھے تو کم از کم ان کے برابر تو تھے۔ اس سے بڑی مایوسی ہوئی۔‘

ساؤ پاؤلو میں ارجنٹائن اور ہالینڈ کا مقابلہ مقررہ وقت تک بغیر کسی گول کے برابر رہا اور اضافی وقت میں بھی کوئی ٹیم گول نہیں کر سکی جس کے ارجنٹائن نے پنلٹی شوٹ آؤٹ میں ہالینڈ کو شکست سے دوچار کیا۔

اب اتوار کو ریو ڈی جنیرو میں کھیلے جانے والے عالمی کپ کے فائنل میں جرمنی اور ارجنٹائن مدِمقابل ہوں گے۔

ولندیزی ٹیم نے کوارٹر فائنل میں کوسٹا ریکا کو پنلٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دی تھی۔ کوچ وان گال نےاس میچ میں گول کیپر یاسپر سیلاسین کو تبدیل کر کے اس کی جگہ ٹم کرول کو بھیجا تھا جنھوں نے دو پنلٹی ککس روک کر ہالینڈ کو کوارٹر فائنل جتوا دیا تھا۔

سیمی فائنل میں گول کیپر تبدیل کرنے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’اگر میں یاسپر کو تبدیل کر سکتا تو کر لیتا لیکن میں کھلاڑیوں کو تبدیل کرنے کے تین مواقع پہلے استعمال کر چکا تھا اور مزید کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا تھا۔‘

خیال رہے کہ ڈچ گول کیپر یاسپر نے اپنی کریئر میں کوئی پنلٹی نہیں روکی۔

ارجنٹائن کے گلو کیپر سرخیو رومیرو ڈچ کلب اے زی الکمار میں وان گال کی سرپرستی میں رہے۔ وان سنہ 2007 میں اس کلب کے کوچ تھے۔

رومیرو کے بارے میں وان گال نے کہا کہ ’میں نے رومیرو کو پنلٹی روکنا سکھایا تھا، اب دکھ ہوتا ہے۔ ہمارا کلب ہی اسے یورپ لایا تھا۔ وہ بہت باصلاحیت کھلاڑی تھا جو ایسا کر سکتا تھا۔‘

اسی بارے میں