ریو کے ماراکانا سٹیڈیم میں سب کچھ داؤ پر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میسی اور مولر دونوں اپنی اپنی ٹیموں کے لیے فتح گر ثابت ہو سکتے ہیں

پوری دنیا کی نظریں اتوار کی شب برازیلی شہر ریو کے ماراکانہ سٹیڈیم پر ہوں گی جب 2014 کے ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے والی جرمنی اور ارجنٹینا میدان میں اتریں گی۔

اتوار کا میچ مناؤس سے پورٹ الیگرے تک 12 میدانوں میں 32 ٹیموں کے مقابلوں کے بعد آیا ہے۔

اس ساری ذہنی اور جسمانی مشقت کے بعد اب صرف دو ٹیمیں اس اعزاز کے حصول کی جنگ میں باقی بچی ہیں جو فٹبال کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔

ورلڈ کپ کے حصول کی اس جنگ میں یہ تیسرا موقع ہوگا کہ جرمنی اور ارجنٹائن کی ٹیمیں مدِمقابل آئیں گی۔

اس سے پہلے دونوں ٹیموں نے 1986 کا فائنل کھیلا جس میں فتح ارجنٹائن کی ہوئی جبکہ 1990 کے ورلڈکپ فائنل میں جرمنی نے چیمپیئن ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

برازیل کو ایک کے مقابلے میں سات گول سے شکست دینے کے بعد اس میچ میں فتح کے لیے جرمنی فیورٹ ہے۔ تاہم جرمن ٹیم نے اس خیال کو رد کیا ہے اور اس کے کھلاڑی زیادہ نظم ضبط کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

دونوں ٹیموں کا فائنل تک سفر ایک ہموار سفر نہ تھا۔ ابتدائی راؤنڈ میں جرمنی کو الجزائر کے خلاف میچ میں سخت مقابلے کا سامنا رہا تو کوارٹر فائنل میں فرانس کے خلاف بھی اس کی فتح آسان نہ تھی۔

جرمنی کے برعکس ارجنٹائن کی ٹیم کا اس ورلڈ کپ میں گروپ سب سے آسان تھا اور سیمی فائنل میں پہنچنے تک اسے اتنے سخت مقابلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور پھر سیمی فائنل میں فیصلہ پنلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا اور یہاں گول کیپر رومیرو ارجنٹائن کے ہیرو ثابت ہوئے۔

اب ریو میں سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

جرمنی اگر یہ میچ جیتتا ہے تو وہ جنوبی امریکہ میں ورلڈ کپ جیتنے والی پہلا یورپی ملک ہوگا اور وہ ساتھ ہی کسی بھی ورلڈکپ مقابلے میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم کے طور پر چیمپیئن بنے گا۔

دوسری طرف 1990 کے بعد پہلی بار فائنل کھیلنے والی ارجنٹائن 28 سال بعد ورلڈکپ جیتنے کے لیےمیدان میں اترے گی اور روایتی حریف برازیل کی سرزمین پر یہ یہ فتح ان کے لیے زیادہ میٹھی ہوگی۔

ارجنٹائن کی امیدوں کا مرکز ایک بار پھر لیونیل میسی ہوں گے اور وہ میچ وننگ پرفارمنس دے کر ڈیاگو میراڈونا کے سائے سے نکل سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption ارجنٹائن 28 برس سے دوبارہ ورلڈ کپ کا فاتح بننے کا خواب دیکھ رہا ہے

جرمنی کا دارومدار کسی بھی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے سٹار کھلاڑی میرسلاو کلوز پر ہوگا جبکہ جرمنی کے تھامس ملر اس میچ میں کولمبیا کے جیمز رودریگز کا اس ورلڈکپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکاڈ تورنے کی کوشش کریں گے۔

اس میچ کو دیکھنے کے لیے آنے والے 75 ہزار افراد میں سے اکثریت برازیلیوں کی ہوگی۔

دیکھنا یہ ہے کہ یہ مداح جنوبی امریکی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے روایتی حریف ارجنٹائن کا ساتھ دیں گے یا پھر ان کی آوازیں اس ٹیم کے لیے ہوں گی جس نے انھیں فٹبال میں ایک بدترین لیکن آنکھیں کھولنے والا سبق سکھایا۔

اسی بارے میں