برازیل کے کوچ سکولاری ’مستعفی‘

تصویر کے کاپی رائٹ VIPCOMM
Image caption برازیل کی ٹیم نے سکولاری کی قیادت میں سنہ 2002 کے فائنل میں جرمنی ہی کو دو صفر سے مات دی تھی

برازیل کے ٹی چینل گلوبو نے خبر دی ہے کہ برازیل کی قومی فٹبال ٹیم کے کوچ لوئیس فیلیپی سکولاری نے ورلڈ کپ 2014 میں اپنی ٹیم کی ناکامی کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ 65 سالہ سکولاری نے برازیل کو سنہ 2002 میں ورلڈ کپ میں فتح سے ہمکنار کرایا تھا لیکن اس بار جب برازیل اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کر رہا تھا تو اسے چوتھی پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔

ان کی ٹیم سیمی فائنل میں جرمنی سے ایک کے مقابلے سات گول سے ہار گئی تھی اور اس طرح برازیل نے نہ صرف اپنی تاريخ کی سب سے بڑی شکست کھائی بلکہ اسے 39 برسوں میں پہلی بار اپنے ملک میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

بات یہیں نہیں رکی۔ تیسری پوزیشن کے لیے ہونے والے میچ میں وہ نیدرلینڈز سے صفر کے مقابلے میں تین گول سے ہار گئی۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا برازیل اپنی سرزمین پر لگاتار دو میچ ہار گیا ہو۔

اس ٹورنامنٹ کے بعد ویسے بھی سکولاری کا معاہدہ ختم ہونے والا تھا، تاہم گلوبو ٹی وی نے بتایا ہے کہ برازیل کی فٹبال کی انتظامیہ کمیٹی سی بی ایف پیر کو ان کے استعفے کی توثیق کرے گی۔

یو ایل او نیوز ویب سائٹ نے بھی استعفے کی بات کہی ہے اور انھوں نے سی بی ایف کا حوالہ دیا ہے۔

Image caption برازیل کو گذشتہ 39 سال سے اپنے ملک میں شکست نہیں ہوئی تھی

نیدرلینڈز کے خلاف میچ کے دوران جتنی بار بھی سکولاری کو سٹیڈیم کی بڑی سکرین پر دکھایا گیا ان کا مذاق اڑایا گیا۔

برازیل کی ٹیم نے ان کی قیادت میں سنہ 2002 کے ورلڈ کپ فائنل میں جرمنی کو دو صفر کی مات دی تھی۔

کچھ دنوں تک مختلف ٹیموں کے ساتھ منسلک رہنے کے بعد ایک بار پھر انھوں نے سنہ 2012 میں برازیل ٹیم کی کوچنگ کی باگ ڈور سنبھالی۔

گذشتہ سال برازیل میں کنفیڈریشن کپ منعقد کیا گیا جس میں میزبان ملک فتح سے ہمکنار ہوا۔

سکولاری نے سیمی فائنل میں شکست کے بعد کہا تھا: ’یہ میرے فٹ بال کریئر کا بدترین لمحہ اور میری زندگی کا بدترین دن ہے۔ لیکن یہ ہوتا ہے۔ اس شکست کا ذمہ دار میں ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’برازیل کے عوام کے لیے میرا پیغام یہ ہے: ہماری پرفارمنس پر ہمیں معاف کریں۔ میں معافی کا طلبگار ہوں کہ ہم فائنل میں نہ پہنچ سکے اور ہم کوشش کریں گے کہ تیسری پوزیشن حاصل کر سکیں۔‘

لیکن جب وہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے تو پھر ان کے پاس بہت کچھ نہیں بچا تھا۔

اسی بارے میں