خاتون کرکٹ کھلاڑی کی مشکوک حالات میں موت

تصویر کے کاپی رائٹ .

پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان سے تعلق رکھنے والی انڈر 17 کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی حلیمہ رفیق نے مبینہ طور پر خو دکشی کر لی ہے۔ حلیمہ رفیق کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ حلیمہ نے ملتان کرکٹ کلب کی انتظامیہ کے ناروا سلوک پر خودکشی کی ہے ۔

شہادت والہ کی رہائشی حلیمہ رفیق ملتان کرکٹ ٹیم کی رکن تھی اور اس نےگراؤنڈ کے باہر ہونے والی مبینہ غیر اخلاقی سرگرمیوں کے بارے میں میڈیا کو بتایا تھا جس پر مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما اور ملتان کرکٹ کلب کے چیئر مین مولوی سلطان عالم انصاری نے اسے 2 کروڑ روپے ہرجانے کے دعوے کے عدالتی سمن بھجوائے تھے۔

عدالتی سمن ملنے پر حلیمہ اور اس کے اہل خانہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔ اتوار کی شام حلیمہ نے مبینہ طور پر تیزاب پی لیا۔ حالت خراب ہونے پر اسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکیں۔

پولیس کے مطابق حلیمہ رفیق نے نوٹس جاری ہونے اور مخالف پارٹی کے دباؤ پر خود کشی کی ہے لیکن حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ حلیمہ رفیق کی تدفین کردی گئی ہے لیکن لواحقین کی جانب سے کارروائی کے لیے کوئی درخواست نہیں دی گئی۔ دوسری طرف حلیمہ کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ ملتان کرکٹ کلب نے حلیمہ اور دیگر لڑکیوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا اور اس کے بعد انہیں جھوٹے کیس میں ملوث کر دیا جس کے نتیجے میں حلیمہ رفیق نے خودکشی کر لی۔

حلیمہ کی والدہ نے ملتان سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون صحافی کو بتایا کہ بچی کو کھیلنے شوق تھا ہم نے اسے کھیلنے کی اجازت دی تھی ۔ میری بچی نے روزے کی حالت میں تیزاب پی کر خود کُشی ہے۔ اس نے یہ قدم میڈیا میں ایک بار پھر چلنے والی خبروں کی وجہ سے اٹھایا ہے ۔ حلیمہ رفیق کی والدہ کے مطابق جب سے وکیل کی طرف سے ہرجانے کا نوٹس موصول ہوا تب سے اس کی بیٹی بلکل خاموش ہوگئی تھی۔ مگر جب میڈیا پر اس کی خبر چلی تو اس نے یہ انتہائی قدم اُٹھایا ہے ۔

یاد رہے کہ ملتان کرکٹ کلب سے وابستہ چار خواتین کرکٹرز نے گزشتہ برس ایک ٹی وی ٹاک شو میں کلب انتظامیہ کے خلاف جنسی استحصال کے الزامات لگائے۔

انھوں نے الزام لگایا تھا کہ کلب کے چیئرمین اور ٹیم منتخب کرنے والے ایک شخص نے ان لڑکیوں کو علاقائی ٹیم میں شامل کرنے اور قومی ٹیم کے لیے ان کے ناموں کی سفارش کرنے کے بدلے ان سے جنسی عنایات چاہتے تھے۔

ایم سی سی کے چیئرمین مولوی سلطان عالم اور ٹیم سیلکٹر محمد جاوید دونوں بھی شو میں موجود تھے اور انھوں نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔

حلیمہ کے بھائی ارشد نے بی بی سی کی نامہ نگار مناء رانا سے اپنی گفتگو میں بتایا کہ جب وہ اپنی بہن کو وکیل کے پاس لے کرگئے تو سترہ سال کی کم عمر لڑکی خوف سے کانپ رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ حلیمہ بہت سخت ذہنی دباؤ اور اذیت کا شکار تھی اس لیے اس نے روزے کی حالت میں پیر کو شام کے وقت تیزاب پی لیا۔

ارشد کہتے ہیں کہ حلیمہ کو جب نشتر اسپتال لے جایا گیا تو وہاں موجود ڈاکٹرز نے اس کا صحیح علاج نہیں کیا اور درد سے تڑپتی ہوئی حلیمہ کو واپس لے جانے کا کہا۔ ارشد کے مطابق اسے ایک پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس لےگئے۔

ارشد کے مطابق وہ اسے ایک پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس لے گئے تاہم اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی اور علاج نہ ہونے کے سبب حلیمہ وفات پا گئی۔

حلیمہ کے والد حیات نہیں ہیں۔

اسی بارے میں