اقلیتوں کو شراب نوشی سے روکنے کے بل کی مخالفت

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption مسلمانوں کی شراب نوشی پر قابو پانا چاہیے کیونکہ مسلمان اقلیتوں سے شراب کے پرمٹ پر شراب حاصل کرکے پیتے ہیں: کمیٹی چیئرمین

وزارت قانون و انصاف سے متعلق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے پاکستان میں اقلیتوں کو شراب نوشی سے متعلق آئین میں دیےگئے استنثیٰ کو ختم کرنے کے بل کی مخالفت کی ہے۔

ارکان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے اقلیتوں کی مذہبی آزادی متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں پاکستان کا تشخص خراب ہوگا۔

جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ کی رکن قومی اسمبلی آسیہ ناصر اور کئی اقلیتی ارکان کی طرف سے ایک بل قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اقلیتوں کو شراب نوشی سےمتعلق آئین میں دیے گئے استثنیٰ کو ختم کر دیا جائے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے اس بل کو قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا تھا۔ آئین کے آرٹیکل 37 ایچ کے تحت اقلیتوں کو شراب نوشی کرنے سے متعلق استثنیٰ دیا گیا ہے جبکہ مسلمانوں کی شراب نوشی پر پابندی ہے۔

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کی سربراہی میں قانون و انصاف کی قائمہ کمییٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔

جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی کا کہنا تھا کہ ملک میں شراب اور دیگر نشہ آور مشروبات پر پابندی ہے لیکن اقلیتوں کو اس بارے میں استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اہل کتاب بھی شراب نوشی کو گناہ اور قابل سزا جُرم سمجھتے ہیں اور شراب پینا اُن کی کوئی مذہبی مجبوری نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شراب نوشی سے متعلق آئین میں اقلیتوں کو دیے گئے استثنیٰ کو ختم کر دیا جائے تاکہ ملک میں یکساں طور پر شراب نوشی پر پابندی ہو۔

کمیٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق جن اقلیتی ارکان نے اس استثنیٰ کو ختم کرنے سے متعلق قومی اسمبلی میں بل جمع کروایا ہے وہ خود شراب نوشی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جن ارکان اسمبلی نے یہ بل پیش کیا ہے اُن میں اکثریت کے پاس شراب کے پرمٹ موجود ہیں۔

اُنھوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا ایسے حالات میں اقلیتی ارکان نے کیسے یہ بل پیش کیا۔

محمود بشیر ورک کا کہنا تھا کہ مسلمان اقلیتوں سے شراب کے پرمٹ پر شراب حاصل کر کے پیتے ہیں اور اس ضمن میں پہلے مسلمانوں کی شراب نوشی پر قابو پانا چاہیے۔

حزب مخالف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی مذہبی تنگ نظری پائی جاتی ہے اور اسی صورت میں اس بل کے منظور ہونے پر نیا پینڈورا باکس کھل جائے گا اور پاکستان کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے اقلیتوں کے مذہبی حقوق بھی متاثر ہوں گے۔

نوید قمر کا کہنا تھا کہ محض اقلیتی ارکان کی طرف سے پیش کیے جانے والے بل پر قانون سازی نہ کی جائے۔ کمیٹی کے دیگر ارکان نے بھی اس بل کی مخالفت کی۔

وزارت قانون وانصاف کے لا ڈویژن نے بھی اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کو شراب نوشی کی اجازت آئین میں دی گئی ہے اس کے علاوہ اس کا ذکر حدود آرڈیننس میں بھی کیا گیا ہے۔

کمیٹی کے ارکان کا اصرار تھا کہ اس بل کو مسترد کر دیا جائے۔ تاہم مولانا شیرانی نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اس بل کے پیش کرنے والے ارکان کی اکثریت موجود نہیں ہے اس لیے اس قائمہ کمٹیی کی کارروائی کو موخر کر دیا جائے جس کے بعد اس بل پر کاروائی آئندہ کے اجلاس تک ملتوی کر دی گئی۔

اس کے علاوہ کمیٹی نے دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کے بل پر بحث بھی موخر کر دی۔