جیکٹ نہ ہونے پر مقابلوں سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption ان مقابلوں میں جیکٹ پہننا لازمی ہے

دولت مشترکہ کھیلوں کی نشانہ بازی کے مقابلوں کی چیمپیئن نور آیونی فرحانہ عبدالحلیم گلاسگو میں ہونے والے دولت مشترکہ کھیلوں میں اپنی جیکٹ کھو جانے کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکیں گی۔

ملائیشیا کی نشانہ باز کا سامان بروقت نہ پہنچنے کی وجہ سے وہ مقابلوں سے قبل مقررہ وقت تک اپنی رجسٹریشن نہیں کروا سکیں۔

آیونی نے نئی دہلی میں 2010 میں دس میٹر فاصلے کی ایئر رائفل شوٹنگ میں طلائی تمغہ حاصل کیا تھا جبکہ وہ گلاسگو کے مقابلوں میں دس میٹر ائیر رائفل اور 50 میٹر رائفل شوٹنگ میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

ان کی ٹیم مینیجر موسی عمر کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔

ان مقابلوں کے قواعد و ضوابط کے تحت نشانہ باز کا جیکٹ پہننا لازمی ہے۔

موسی عمر کا کہنا تھا: ’ہم نے کسی سے ایک جیکٹ لی لیکن وہ ان کو پوری نہیں آئی۔ ہم نے نئی جیکٹ بنانے کی کوشش کی لیکن اسے پہن کر نشانہ لگانے کی عادی ہونے کے لیے انھیں کم از کم دو ماہ کا وقت درکار تھا۔‘

آیونی انتہائی مایوسی کی حالت میں فوری طور پر ملائیشیا واپس لوٹ جانا چاہتی تھیں لیکن بڑی مشکل سے انھیں اپنے ساتھی ایتھلیٹوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے وہاں رہنے پر آمادہ کیا گیا۔

موسی نے مزید کہا کہ یہ بہت بدقسمتی ہے اور وہ اس سے بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ سب کھلاڑی اس سے بہت مایوس ہیں۔

دولت مشترکہ کھیلوں میں شامل ملائیشیا کے کھلاڑیوں کا دستہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں حال ہیں میں ملائیشین فضائی کمپنی کے تباہ ہونے والے طیارے کے مسافروں کو خراج تحسین پیش کرے گا۔

ملائیشیا کے دستے کے سربراہ دتوک اونگ پو انگ نے بی بی سی کو بتایا کہ 185 اتھیلیٹوں پر مشتمل ان کا گروپ کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں بازوں پر کالی پٹیاں باندھ کر شرکت کرے گا۔

ملائیشیا کی فضائی کمپنی کا طیارہ ایم ایچ 17 ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جاتے ہوئے یوکرین کی فضائی حدود میں میزائل کا نشانہ بن گیا تھا۔

اسی بارے میں