تجربے کا کوئی بدل نہیں ہوتا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ یونس کی 24ویں ٹیسٹ سنچری ہے اس طرح وہ سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے پاکستانی بیٹسمینوں میں محمد یوسف کے برابر آ گئے ہیں اور ان کے سامنے اب صرف انضمام الحق کی 25 سنچریوں کا ریکارڈ ہے

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تجربے کا کوئی بدل نہیں ہوتا۔

یونس خان کے وسیع تجربے اور مشکل حالات میں اعتماد سے کھیلنے کی خصوصیت نے گال ٹیسٹ کے پہلے دن پاکستانی اننگز کو میزبانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا۔

چھ ماہ کے صبرآزما انتظار کے بعد ٹیسٹ میچ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم نے سری لنکن بولنگ کے سامنے پہلے دن کا اختتام 261 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔

میچ کے اختتام پر یونس خان 11 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ایک 133 رنز بناکر ناٹ آؤٹ تھے۔

یہ ان کی 24ویں ٹیسٹ سنچری ہے اس طرح وہ سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے پاکستانی بیٹسمینوں میں محمد یوسف کے برابر آ گئے ہیں اور ان کے سامنے اب صرف انضمام الحق کی 25 سنچریوں کا ریکارڈ ہے۔

گال ٹیسٹ کا پہلا دن گذشتہ رات کی بارش کے سبب آدھے گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا اور مقررہ 90 اووروں سے دو کم پر ختم ہوا۔ تاہم تمام وقت آسمان پر موجود بادل نہیں برسے البتہ سری لنکن بولرز پہلے سیشن میں گرج پڑے اور انھوں نے ابتدا ہی میں تین وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی بیٹنگ کو اپنے اشارے پر نچانے کا پورا بندوست کرلیا تھا لیکن بعد میں انھیں یونس خان مصباح الحق اور اسد شفیق کے بھرپور جواب کا سامنا کرنا پڑا۔

مصباح الحق نے گال کی ’سپن دوست‘ وکٹ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن دونوں اوپنروں کی جلد پویلین واپسی پر یہ فیصلہ ’بیک فائر‘ ہوتا دکھائی دیا۔

احمد شہزاد چوکے سے کھاتہ کھولنے کے فوراً بعد ہی دھمیکا پرساد کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ پرساد نے خرم منظور کو بھی تین رنز پر پویلین کی راہ دکھائی۔

اظہر علی نے خوبصورت کور ڈرائیو کھیلے تو یہ محسوس ہونے لگا کہ وہ شارجہ جیسی ایک اور اننگز کھیلنے کے موڈ میں ہیں لیکن 30 رنز پر رنگانا ہیرتھ نے انھیں بولڈ کردیا۔

56 رنز پر تین وکٹیں گرجانے کے بعد بکھری اننگز کو سمیٹنے کرنے کی ذمہ داری ایک بار پھر یونس خان اور مصباح الحق نے سنبھالی اور دونوں نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں قیمتی سو رنز کا اضافہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تمام وقت آسمان پر موجود بادل نہیں برسے البتہ سری لنکن بولرز پہلے سیشن میں گرج پڑے

مصباح الحق جنہوں نے صفر پر اینجیلو میتھیوز کا ریویو ضائع کراتے ہوئے 17ویں گیند پر پہلا رن بنایا تھا کسی جلدی میں دکھائی نہیں دے رہے تھے لیکن 31 کے سکور پر ہیرتھ کی گیند ان کے بلے کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر نیروشن دکویلا کے گلوز میں گئی تو پاکستانی ڈریسنگ روم کا اطمینان ایک بار پھر بے سکونی میں بدلتا دکھائی دیا۔

یونس خان کی اننگز میں دیکھنے والوں کے لیے سب کچھ موجود تھا۔ ان کا دماغ ہرگیند پر بیٹ کے استعمال کے ساتھ ساتھ امپائر کے فیصلوں پر بھی خوب چلتا رہا ۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے ریویو کا صحیح استعمال کرتے ہوئے دو بار اپنی وکٹ بچائی ۔

بیس کے انفرادی سکور پر پرساد کی گیند پر وہ وکٹ کے پیچھے کیچ آؤٹ قرار دیے گئے لیکن انھوں نے مصباح الحق سے فوراً مشورہ کرتے ہوئے ریویو لے لیا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا کہ گیند بیٹ سے نہیں لگی تھی۔

یونس خان کو ریویو کا دوسرا فائدہ 59 کے سکور پر ملا جب پریرا کی گیند پر وہ ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے اس بار بھی تھرڈ امپائر کا فیصلہ ان کے حق میں گیا کہ گیند پیڈ پر اونچی لگی تھی۔

قسمت یونس خان پر اس وقت بھی مہربان رہی جب 68 کے انفرادی سکور پر ریورس سوئپ پر مہیلا جے وردھنے ان کا کیچ لینے میں ناکام رہے۔

اسد شفیق خوش قسمت ہیں کہ سری لنکا کے خلاف آخری ٹیسٹ سیریز کی پانچ اننگز میں محض 61 رنز کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود ٹورنگ سلیکشن کمیٹی نے ان پر اعتماد کیا اور انھوں نے بھی اس موقعے کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔

وہ 55 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں اور یونس خان کےساتھ پانچویں وکٹ کی شراکت میں 105 رنز کا اضافہ کر چکے ہیں۔

سری لنکن بولرز نئی گیند سے بغیر کسی کامیابی کے آٹھ اوورز کرا چکے ہیں۔

اسی بارے میں