بھارتی فنکاروں اور کھلاڑیوں کی توہم پرستیاں

Image caption اداکار گرودت اس توہم کا شکار ہوئے جب کئی ناکامیوں کے بعد ان کی فلم ’آر پار‘ بڑی ہٹ ثابت ہوئی

گذشتہ صدی کی پانچویں اور چھٹی دہائی میں انگریزی فلم میگزین ’فلم‘ نے ایک ہاتھوں کی لکیروں کے باقاعدہ ماہر پنڈت کاشی پرساد سروٹھيا سے فنکاروں کے ہاتھوں کی لکیریں پڑھوائیں اور مستقبل کے بارے میں تفصیل سے سیریز شائع کی۔

جن فنکاروں نے اپنے ہاتھ کے چھاپے دے کر اپنا مستقبل جاننے میں دلچسپی دکھائی ان میں اس وقت چائلڈ آرٹسٹ بے بی ناز سے لے کر دیو آنند اور کشور کمار تک شامل تھے۔

فلمی اداکاروں کے توہمات

ہاتھ پڑھوانا اور جنم کنڈلی دکھانا تو عام بات ہوئی لیکن جب کسی وہم کے تحت کوئی پرانے کپڑے پہننے لگے تب کیا کیا جائے۔

اداکار گرودت اس وقت اس توہم کا شکار ہوئے جب کئی ناکامیوں کے بعد ان کی فلم ’آر پار‘ (1954) بڑی ہٹ ثابت ہوئی۔

انھوں نے اس فلم میں ایک کافی پرانا سا کوٹ پہنا تھا۔ وہی جسے لے کر ان کا ڈائیلاگ بھی تھا کہ ’بات یہ ہے کہ وہ ولایت کا سلا کوٹ ہے۔‘

جب گرودت نے اگلی فلم ’مسٹر اینڈ مسز 55‘ شروع کی تو اس میں بھی اپنے اسی کوٹ کو دوبارہ پہن لیا۔ جب 1957 میں ’پیاسا‘ کی شوٹنگ شروع ہوئی تو اسی پرانے کوٹ میں وہ پردے پر نمودار ہوئے۔

لیکن یہ صرف اداکاروں تک محدود نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سچن تندولکر ہمیشہ تیار ہوتے وقت اپنا بائیں پیڈ اور بائیں پیر کا جوتا پہلے پہنتے تھے

کرکٹ کے عظیم کھلاڑی سنیل گواسکر بیٹنگ کے لیے میدان پر اترنے سے پہلے اپنے جسم پر کوئی نہ کوئی نئی چیز پہن کر جاتے تھے۔

سچن تندولکر کے ساتھ بھی ایسی کئی کہانیاں وابستہ ہیں۔ وہ ہمیشہ تیار ہوتے وقت اپنا بائیں پیڈ اور بائیں پیر کا جوتا پہلے پہنتے تھے۔

دوسری طرف بھارتی ٹیم کی ’دیوار‘ کہے جانے والے راہل دراوڈ ہمیشہ اپنا دائیں پاؤں میدان میں پہلے رکھتے تھے۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے بہترین اوپنر سری کانت کا کہنا ہے کہ میچ کے دوران ایک سے بڑھ کر ایک ٹوٹکے ہوتے ہیں۔

1983 کے ورلڈ کپ میں زمبابوے کے خلاف تاریخی میچ کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے کہ ٹیم ہار کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اور ایسے میں کپتان کپل دیو نے میدان سنبھالا۔

Image caption جیسے ہی کپل نے چوکے اور چھکے لگانےشروع کیے، ٹیم کے مینیجر مان سنگھ نے حکم جاری کیا کہ کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلےگا

جیسے ہی کپل نے چوکے اور چھکے لگانےشروع کیے ویسے ہی ٹیم کے مینیجر مان سنگھ نے حکم جاری کیا کہ کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلےگا۔ جو جہاں ہے، جیسا ہے، ویسی ہی حالت میں رہے۔

اس وقت سری کانت ڈریسنگ روم کے باہر کافی کا مگ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے۔ مینیجر کے اس حکم کی وجہ سے اگلے دو گھنٹے تک وہ ٹھنڈی ہواؤں کے تھپیڑے کھاتے ہوئے اسی حالت میں رہے۔

اس دن کپل دیو نے 175 رنز بنا کر ہارتی ہوئی ٹیم کو جتوا دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کپل دیو کے رنز اس ٹوٹکے کی وجہ سے بنے یا پھر۔۔۔؟