رنز تو بن گئے، اب آؤٹ بھی کرنا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنگاکارا فی الحال پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں

گال کی وکٹ پہلے رنز سے سیراب ہوتی ہے اور پھر جو وقت بچ جائے اس میں سپنر محنت کا صلہ پاتے ہیں۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے ٹیسٹ کے دو دن مکمل ہونے پر ابھی سپنروں کے لیے بوئی ہوئی فصل کاٹنے کا وقت نہیں آیا ہے البتہ بلے بازوں نے مزے ضرور لوٹے ہیں۔

پاکستانی اننگز451 رنز پر آ کر رکی جو آٹھ سال میں کسی ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں اس کا دوسرا سب سے بڑا سکور ہے۔

اس بڑے سکورکی بنیاد یونس خان نے رکھی جسے بعد میں آنے والے بلے بازوں نے تقویت پہنچائی۔

یونس خان اور اسد شفیق نے گذشتہ روز کے سکور میں 32 رنز کا اضافہ کیا تھا کہ آف سپنر دلروان پریرا نے اسد شفیق کی پانچویں ٹیسٹ سنچری کی خواہش کو پورا نہیں ہونے دیا۔

اسد شفیق نے 75 رنز پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ دیے جانے کے فیصلے کو تبدیل کرانے کے لیے ریویو کا سہارا لیا لیکن گیند اتنی واضح طور پر لائن میں پیڈ پر لگی تھی کہ فیصلے میں تبدیلی کی گنجائش نہیں تھی۔

اسد شفیق اور یونس خان کی پانچویں وکٹ کی شراکت میں137 رنز بنے۔

یونس خان کی ریویو سے محبت کا سلسلہ جاری رہا۔ رنگانا ہیراتھ نے ایل بی ڈبلیو کی اپیل مسترد کیے جانے پر ریویو لیا لیکن فیصلہ یونس خان کے حق میں ہی رہا جو اس وقت 147 رنز پر کھیل رہے تھے۔ تاہم 177 کے سکور پر پریرا کی گیند پر وتھاناگے ان کا کیچ لینے میں کامیاب ہوگئے۔

شارجہ ٹیسٹ میں جارحانہ بیٹنگ سے پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے والے وکٹ کیپر سرفراز احمد نے اس بار بھی سری لنکن بولروں سے خوب دو دو ہاتھ کیے۔ وہ صرف 71 گیندوں پر 55 رنز بناکر آؤٹ ہوئے جو ان کی دوسری نصف سنچری تھی۔

عبدالرحمٰن نے بھی رنز کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دوسری نصف سنچری اسکور کی۔

پہلے دن وکٹ سے محروم دلروان پریرا دوسرے دن گرنے والی چھ میں سے پانچ وکٹیں حاصل کرنے کے ذمہ دار تھے۔ وہ چھ ٹیسٹ میچوں میں تیسری مرتبہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

سری لنکن اننگز کی ابتدا بھی پاکستان کی طرح اچھی نہیں تھی۔ پانچویں اوور میں جنید خان نے اپل تھرنگا کو ایل بی ڈبلیو کیا تو سکور 24 رنز تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستانی بولنگ کو کمارسنگاکارا کی شکل میں ایک بہت ہی بڑے خطرے کا سامنا کرنا تھا جو ایک طویل عرصے سے جے وردھنے کے ساتھ مل کر سری لنکن بیٹنگ کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

سنگاکارا نے پہلا رن بنانے کے لیے 15 گیندیں کھیلیں اس کے بعد بھی وہ پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے رہے، لیکن جنید خان کے دسویں اوور میں انھوں نے ہاتھ کھولے اور دو چوکے جڑ دے۔

ان کے مقابلے میں کوشل سلوا نے قدرے جارحانہ انداز اختیار کیا۔

یہ دونوں کھیل کے اختتام پر سکور کو 99 تک لے گئے جس میں سنگاکارا کا حصہ 36 تھا جبکہ سلوا 38 پر ناٹ آؤٹ تھے۔

سری لنکا کی بساط جلد لپیٹنے کے لیے کپتان مصباح الحق اپنے سپنرز سعید اجمل اور عبدالرحمٰن کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ یہ دونوں اب تک کسی کامیابی کے بغیر 17 اوورز کروا چکے ہیں اور یہ بات طے ہے کہ تیسرے دن انھیں لمبی بولنگ کرنی ہے۔

اگر پاکستانی بولرز سنگاکارا اور ڈریسنگ روم میں اپنی باری کا انتظار کرنے والے مہیلا جے وردھنے کو جلد آؤٹ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو پھر سکور بورڈ پر سری لنکا کے بھی بھاری بھرکم ہندسے ہی نظر آئیں گے۔

اسی بارے میں