اوپننگ کا مسئلہ پاکستانی ٹیم کے لیے ایک دائمی مرض

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیٹسمینوں نے سری لنکن بولروں خاص کر ہیراتھ کو خود پر حاوی ہونے کا موقع کیوں فراہم کیا؟

پاکستانی کپتان اور کوچ کو اسی سال سری لنکا ہی کے خلاف شارجہ ٹیسٹ کی شاندار جیت کو اپنے کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ مندی کا اہم محرک قرار دیا گیا تھا لیکن گال میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں جب ذمہ داری دکھانے کا وقت آیا تو یہ بیٹسمین سارے سبق بھول چکے تھے اور اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم سری لنکن سرزمین پر پانچ سال میں تیسری ٹیسٹ سیریز ہارنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

کسی بھی ٹیم کے لیے اس سے زیادہ شرمناک شکست اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ پہلی اننگز میں ساڑھے چار سو کا بھاری سکور کرنے کے بعد دوسری اننگز میں چھ مستند بیٹسمینوں کے ساتھ دو سیشن بھی وکٹ پر گزارنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

پاکستانی بیٹسمینوں نے اگر یہ سوچا ہوا تھا کہ وہ ضرورت سے زیادہ دفاعی خول میں خود کو بند کر کے میچ کو ڈرا کی طرف لے جائیں گے تو یہ ان کی بھول تھی۔ اسی دفاعی سوچ نے سری لنکن ٹیم کے حوصلے بلند کر دیے اور جب بازی ہاتھ سے نکل گئی تو کوچ وقار یونس فرسٹریشن میں کبھی آسمان پر سیاہ بادلوں کی طرف اور کبھی امپائروں کی طرف دیکھ رہے تھے کہ وہ میچ روک دیں لیکن بادل بھی اس وقت برسے جب دیر ہو چکی تھی۔

یہ بات بھی بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کپتان مصباح الحق نے سری لنکا روانگی سے قبل گال کو پہلے ہی میزبان ٹیم کا مضبوط گڑھ قرار دے دیا تھا۔ اسی گال میں جنوبی افریقہ نے گذشتہ ماہ اپنے تیز بولروں کی قوت پر سری لنکا کو شکست دی تھی، لیکن ایسا دکھائی دیا کہ پاکستانی ٹیم کسی منصوبہ بندی اور واضح سوچ کے بغیر یہ ٹیسٹ کھیل رہی تھی۔

اوپننگ کا مسئلہ پاکستانی ٹیم کا دائمی مرض ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بات بھی بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کپتان مصباح الحق نے سری لنکا روانگی سے قبل گال کو پہلے ہی میزبان ٹیم کا مضبوط گڑھ قرار دے دیا تھا

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ احمد شہزاد اور خرم منظور متحدہ عرب امارات میں سری لنکا اور جنوبی افریقہ کے خلاف بڑی اننگز کھیلنے کے بعد اپنی جگہ مستقل بنا چکے ہیں تو یہ غلط ہے۔ یہ بات ماننے میں کوئی ہرج نہیں کہ خرم منظور ٹیسٹ کے معیار کے بیٹسمین نہیں ہیں۔

مستقبل کے سنہرے سپنے دکھاتے ہوئے توفیق عمر اور عمران فرحت پر خرم منظور اور شان مسعود کو متعارف کرایا گیا تھا کہ اچانک احمد شہزاد کی انٹری ہو گئی۔ لیکن وہ بھی تینوں فارمیٹس میں الجھے ہوئے ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہےکہ جیسے وہ کسی خاص ہدایت کے تحت اپنے قدرتی انداز سے برخلاف کھیل رہے ہیں۔

کپتان مصباح الحق کا روایتی بیان شاید کسی کو بھی ہضم نہ ہو کہ پاکستانی بیٹسمین سری لنکن بولروں کے دباؤ میں آگئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بیٹسمینوں نے سری لنکن بولرز، خاص کر ہیراتھ کو خود پر حاوی ہونے کا موقع کیوں فراہم کیا؟

ریویو کب لینا ہے اور کب نہیں لینا ہے، پاکستانی ٹیم کو ابھی تک اس کی بھی سمجھ نہیں آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مستقبل کے سنہرے سپنے دکھاتے ہوئے توفیق عمر اور عمران فرحت پر خرم منظور اور شان مسعود کو متعارف کرایا گیا تھا کہ اچانک احمد شہزاد کی انٹری ہوگئی

یونس خان نے اپنی سنچری کے دوران اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اپنی وکٹ بچائے رکھی، لیکن یہ عام سی بات ہے کہ جب بھی کوئی بیٹسمین اپنے ساتھی سے مشورہ مانگتا ہے تو اسے ریویو نہ لینے کا ہی مشورہ دیا جاتا ہے جس کی تازہ ترین مثال احمد شہزاد کی ہے جنھوں نے ایل بی ڈبلیو دیے جانے پر اظہر علی سے مشورہ مانگا جنہوں نے انھیں ریویو نہ لینے کےلیے کہا۔

اگر وہ ریویو لے لیا جاتا تو فیصلہ احمد شہزاد کے حق میں جاتا۔

اسی طرح سنگاکارا کے خلاف ریویو نہ لے کر اور چوتھے دن کی پہلی ہی گیند پر عبدالرحمٰن کے ڈراپ کیچ نے انھیں ڈبل سنچری بنانے کا پورا پورا موقع فراہم کیا۔

سعید اجمل اور جنید خان ہی اس سیریز میں پاکستانی بولنگ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں لیکن چھ سال میں پاکستان کے خلاف چھ سیریز کھیلنے والے سری لنکن بیٹسمین سعید اجمل کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعید اجمل کو اب وکٹیں تو مل رہی ہیں لیکن لمبی بولنگ اور رنز کی بھرمار کے بعد۔

گال آف شیم کے بارے میں سب سے اچھا تبصرہ رمیز راجہ کا رہا جن کا کہنا ہے کہ ’بارش نے میچ کو برباد نہیں کیا کیونکہ سری لنکا کی ٹیم جیت کی مستحق تھی۔‘

اسی بارے میں