کرکٹ میں سرخ اور پیلے کارڈز کا استعمال؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ فٹبال کی طرح کرکٹ میں بھی سرخ اور پیلے کارڈوں کا استعمال شروع کر دیا جائے

انگلینڈ اور بھارت کے درمیان ٹرینٹ بریج میں پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران انگلش بولر جیمز اینڈرسن اور بھارتی آل راؤنڈر رویندر جڈیجا کے جھگڑے کے بعد کرکٹ حلقوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا کرکٹ کھلاڑیوں کی بدتمیزی سے نمٹنے کے معاملے میں بہت نرم ہے۔

دنیا کے دیگر کھیلوں کے مقابلے میں کرکٹ امپائر کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں جس سے وہ کسی کھلاڑی کو میدان سے باہر نکال دے۔ تاہم میچ کے بعد آئی سی سی کی جانب سے نامزد کیے جانے والے میچ ریفری ایسے کھلاڑیوں کو سزائیں دے سکتے ہیں یا جرمانے عائد کر سکتے ہیں۔

کرکٹ کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ فٹبال کی طرح کرکٹ میں بھی سرخ اور پیلے کارڈوں کا استعمال شروع کر دیا جائے تاکہ امپائروں کو میدان میں کھلاڑیوں کے چھوٹے موٹے جھگڑے نمٹنانے میں سہولت حاصل ہو جائے۔

لیکن کیا یہ تبدیلی کرکٹ کی اصل روح کو بدلنے کے مترداف نہیں ہو گی؟

خیال رہے کہ رواں برس آئی سی سی اور ایم سی سی کے اجلاسوں میں اس بارے میں غور کیا گیا تھا۔

کرکٹ کمنٹیٹر پرکاش واکینکر

کرکٹ کمنٹیٹر پرکاش واکینکر کا کہنا ہے کہ جب تک امپائروں کو مداخلت کے مزید اختیارات نہیں دیے جاتے، کرکٹ کا کھیل متاثر ہوتا رہے گا۔

انھوں نے کہا: ’ہمیں ایسے سسٹم کی ضرورت ہے جو کھلاڑیوں کے کریئر کے ساتھ ساتھ چلتا رہے اور وہ ان کے برے رویے پر انھیں سخت سزا دے سکے۔ کھلاڑیوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگر وہ کسی طرز عمل کا مظاہرہ کریں گے تو انھیں سزا دی جائے گی اور اگر اپنے رویے کو دہراتے ہیں تو اس سزا کو بتدریج بڑھا دینا چاہیے۔‘

واکینکر کے مطابق: ’اس سسٹم کو متعارف کروانے کے لیے مزید وقت اور بحث کی ضرورت ہے تاہم میری تجویز ہے کہ اگر کوئی بولر کسی بلے باز سے مسلسل تلخ کلامی کرتا ہے تو اسے پیلا کارڈ دکھا دینا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ گالم گلوچ اور بری زبان کی کرکٹ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

سابق انگلش بولر سٹیو ہارمیسن

انگلینڈ کے سابق بولر سٹیو ہارمیسن کا کہنا ہے کرکٹ میں سرخ اور پیلے کارڈ متعارف کروانے سے ایک خطرناک مثال قائم ہو گی اور یہ کرکٹ کو اس جگہ لے جائے گی جہاں آپ اسے لے جانا نہیں چاہتے۔

انھوں نے کہا: ’سب سے پہلے تو یہ کرکٹ امپائروں کے اختیارات کو کمزور بنا دےگا جس سے یہ ظاہر ہو گا کہ امپائر زیادہ مضبوط نہیں ہیں اور حکام انھیں ختم کرنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ انگلینڈ اور بھارت کے درمیان ٹرینٹ بریج میں پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران انگلش بولر جیمز اینڈرسن اور بھارتی آل راؤنڈر رویندر جڈیجا کے جھگڑے کو امپائروں نے نہیں دیکھا چنانچہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ انھیں کارڈ دکھایا جائے۔

سٹیو ہارمیسن کے مطابق ذاتی حملے اور فقرے بازی میں فرق ہوتا ہے۔

اسی بارے میں