شرٹ اتارنے پر سونے کے تمغے سے محروم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مخسسی بینابد اس سے پہلے 2011 میں اپنی ہی ٹیم کے کھلاڑی مہدی بالا سے لڑائی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں

فرانس کے ایتھلیٹ مخسسی بینابد سے ان کا یورپیئن چیمپیئن شپ میں جیتا ہوا سونے کا تمغہ ریس کے اختتام پر شرٹ اتارنے کی وجہ سے واپس لے لیا گیا۔

3000 میٹر کی رکاوٹی دوڑ میں جیتا ہوا یہ تمغہ بینابد سے تب واپس لے لیا گیا جب انھوں نے ریس جیتنے کی خوشی میں اختتامی لائن کو عبور کرنے کے بعد خوشی سے اپنی شرٹ اتار کر ہوا میں لہرا دی۔

ریفری کی طرف سے دیے گئے پہلے اشارے سے ایسا لگا کے ریفری نے ان کو پیلا کارڈ دکھایا ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ان کو نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

بینابد کے نااہل ہونے کے بعد اب پہلی پوزیشن فرانس کے ہی یوان کوال کو ملی جبکہ دوسرے نمبر پر کرسٹن ذالسکی اور کانسی کا تمغہ سپین کے اینجل مریرا کے حصے میں آیا۔

مخسسی بینابد جو کہ اس سے پہلے اولمپکس میں دو چاندی کے تمغے حاصل کر چکے ہیں، 2011 میں اپنی ہی ٹیم کے کھلاڑی مہدی بالا سے لڑائی کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بن چکے ہیں۔

موناکو میں ہونے والی ڈائمنڈ لیگ کے 1500 میٹر کے اس مقابلے میں دونوں کھلاڑیوں نے ریس ختم ہونے کے بعد ایک دوسرے پر مکوں کی بارش شروع کردی تھی۔

اس واقعے کے بعد فرانس کی ایتھلیٹکس ٹیم کے حکام نے دونوں کھلاڑیوں کو معطل کردیا جبکہ ان دونوں کو ان کی میچ فیس بھی نہیں دی گئی تھی۔

بالا نے قوم اور بینابد سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ اس واقعے سے ملک کی بدنامی ہوئی اور انھیں اس پر افسوس ہے۔

اسی بارے میں