شہریار خان بلامقابلہ پی سی بی چیئرمین منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 80 سالہ شہریار خان دوسری مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے بورڈ آف گورنرز نے شہریار خان کو بلامقابلہ بورڈ کا چیئرمین منتخب کر لیا ہے۔

ان کا انتخاب پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے تحت عمل میں آیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم نے، جو پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن بھی ہیں، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے آئین کے تحت 30 روز کے اندر انتخابات کرانے کے لیے جسٹس (ریٹائرڈ) سائر علی کو الیکشن کمشنر مقرر کیا تھا۔

تاہم شہریار خان کے علاوہ کسی اور نے چیئرمین کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کیے۔

اس سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے مستعفی ہونے والے چیئرمین نجم سیٹھی نے سپریم کورٹ میں یہ بیان داخل کیا تھا کہ وہ پی سی بی کے چیئرمین کے الیکشن میں امیدوار نہیں ہوں گے۔

نجم سیٹھی اور شہریار خان وزیرِ اعظم کی طرف سے پی سی بی کے بورڈ آف گورنرز میں نامزد ہوئے ہیں۔

بورڈ آف گورنرز میں ان دونوں کے علاوہ ملک کی مختلف کرکٹ ایسوسی ایشنوں اور اداروں کےآٹھ آٹھ نمائندے شامل ہیں۔

80 سالہ شہریار خان دوسری مرتبہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ہیں۔ اس سے قبل وہ 2003 میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) توقیر ضیا کی جگہ پی سی بی کے چیئرمین بنے تھے، لیکن تقریباً تین سال اس عہدے پر رہنے کے بعد انھیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

اوول کا مشہور متنازع ٹیسٹ میچ انھی کے دور میں کھیلا گیا تھا جس میں پاکستانی ٹیم پر مبینہ طور پر بال ٹیمپرنگ کا الزام لگا تھا جس پر ٹیم نے احتجاج کرتے ہوئے میدان میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستانی ٹیم کے اس عمل پر آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیر نے انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا تھا۔

شہریار خان پاکستان کے قابل احترام سفارت کاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ سیکریٹری خارجہ کے علاوہ متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ روانڈا میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری کے خصوصی نمائندے کی ذمہ داری بھی نبھا چکے ہیں۔

شہریار خان ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ روابط کی بحالی میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 1999 میں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم نے 13 سال کے طویل عرصے کے بعد بھارت کا دورہ کیا تو اس اہم دورے میں وہ ٹیم کے منیجر بنائے گئے تھے۔

وہ 2003 کے عالمی کپ میں بھی پاکستانی ٹیم کے منیجر تھے۔

گذشتہ سال انہوں نے پاک بھارت تعلقات کی بہتری کی کوششوں کے سلسلے میں وزیر اعظم کے خصوصی نمائندے کی حیثیت سے بھارت کا دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں