’انگلینڈ عالمی کپ جیتنے کے لیے بہتر ٹیم نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سوان نے انگلینڈ کی جانب سے 79 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 104 وکٹیں کی ہیں

انگلینڈ کے سابق سپنرگراہم سوان کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کا آئندہ برس آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد ہونے والا کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کا کوئی چانس نہیں ہے۔

گراہم سوان کے مطابق انگلش ٹیم کو کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کے لیے موجودہ کپتان ایلسٹر کک کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

سابق انگلش بولر نے ٹیسٹ میچ سپیشل میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہ ہم کرکٹ کا عالمی کپ نہیں جیت سکتے۔

انگلینڈ کی جانب سے 79 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 104 وکٹیں حاصل کرنے والے سوان موجودہ ٹیم میں ایلسٹر کک، ائین بیل اور گیری بیلنس کی جگہ ہیمشائر کے جیمز ونس، سرے کے جیسن رائے اور ناٹنگھم کے جیمز ٹیلر کو دیکھنا چاہتے ہیں۔

انھیں اس بات پر بھی خوشی ہے کہ اوپنر ایلکس ہیلز آئندہ برس فروری اور مارچ میں ہونے والے کرکٹ کے عالمی کپ سے پہلے سلیکٹروں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

ایلکس ہیلز کو ٹی ٹوئنٹی کا ماہر جانا جاتا ہے۔ وہ بھارت کے خلاف پیر کو کھیلے جانے والے میچ میں اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے تھے کہ بارش کی وجہ سے وہ میچ منسوخ کرنا پڑا تاہم سوان کو یقین ہے کہ 25 سالہ ہیلز کو اس کے لیے بہت زیادہ انتظار کرنا پڑا۔

سوان کا کہنا تھا کہ ایلکس ہیلز کو دو یا تین سال قبل انگلیڈ کی ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایلکس نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹرینٹ بریج میں کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی میچ میں 99 رنز بنائے تھے۔

سوان کے مطابق ایلسٹر کک، ائین بیل اور گیری بیلنس جیسے کھلاڑی عالمی کپ نہیں جتوا سکتے تاہم ایلکس ہیلز، جیمز وینس، جیسن رائے، جیمز ٹیلر، جوز بٹلر اور ائین مورکن جیسے کھلاڑی ایسا کر سکتے ہیں۔

انگلینڈ کی جانب سے ایک روزہ میچوں میں 78.16 کی اوسط سے 2,967 رنز بنانے ایلسٹر کک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے تاہم سوان کا کہنا ہے کہ انھیں ٹیم کا کنٹرول کسی دوسرے کے سپرد کر دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایلسٹر کک نے ٹیسٹ میچوں میں خود کو منوایا ہے تاہم اب انھیں ایک روزہ کرکٹ کھیلنے کے لیے مزید پریشان نہیں کیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں