افغان کرکٹ ٹیم کا انگلش کوچ

Image caption اینڈی مولز کینیا کی ٹیم کے بھی کوچ رہ چکے ہیں

افغانستان نے قومی کرکٹ ٹیم کی تربیت کے لیے برطانوی کوچ اینڈی مولز کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

اینڈی مولز سنہ 1997 میں انگلش کاؤنٹی وارک شائر کی طرف سے کھیلتے تھے اور بین الاقوامی سطح پر وہ سکاٹ لینڈ اور کینیا کی ٹیموں کی کوچنگ کر چکے ہیں۔

اینڈی مولز کا کہنا ہے کہ جب سے ان کے دوستوں نے یہ خبر سنی ہے وہ ان سے پوچھ رہے ہیں کہ ’کیا واقعی وہ افغانستان کی ٹیم کی کوچنگ کے لیے جا رہے ہیں، افغانستان میں تو جنگ جاری ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ افغان حکومت کی طرف سے انھیں یقین دلایا گیا ہے کہ طالبان کرکٹ کے خلاف نہیں ہیں اور وہ ان کی کوچنگ میں کوئی خلل نہیں ڈالیں گے۔

اینڈی مولز وارک کشائر کی طرف سے اوپنگ بلے باز تھے اور بعد ازاں وہ کوچنگ کی طرف چلے گئے۔

افغانستان میں سنہ 2001 سے پہلے کرکٹ نہیں کھیلی جاتی تھی لیکن پاکستان میں مہاجرین کی زندگی گزارنے والے نوجوان کرکٹ کے کھیل سے متعارف ہوئے اور وطن واپس آنے پر انھوں نے ملک میں کرکٹ کو روشناس کرایا اور اس کے بعد یہ ملک کا سب سے مقبول ترین کھیل بن گیا۔

اب حالت یہ ہے افغانستان میں جگہ جگہ بچے اور نوجوان کرکٹ کھیلتے نظر آتے ہیں اور کوئی خالی جگہ ایسی نہیں ملتی جہاں وکٹیں لگا کر کرکٹ نہ کھیلی جا رہی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption افغانستان کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کبیر خان ذاتی وجوہات کی بنا پر مستعفی ہو گئے ہیں

گذشتہ اکتوبر کو جب قومی کرکٹ ٹیم نے کینیا کی ٹیم کو ہرا کر عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کیا تو دارالحکومت کابل میں جشن منایا گیا اور رات بھر شہر میں ہوائی فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

ملک میں ہونے والے حالیہ انتخاب میں اتنے لوگوں نے ووٹ نہیں ڈالے جتنے اپنے گھروں میں کرکٹ کے میچ دیکھتے رہے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ نور محمد نور کا کہنا ہے کہ افغانستان میں کرکٹ اب کھیل نہیں رہا بلکہ اس سے بڑھ کر ایک جنون بن گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اینڈی مولز نے کچھ ہفتوں قبل افغانستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ بیٹنگ کوچ کی حیثیت سے منسلک ہونے پر رضا مندی ظاہر کی تھیں لیکن اس دوران ہیڈ کوچ کبیر خان نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا جس کے بعد اینڈی مولز کو ہیڈ کوچ بننے کی پیش کش کر دی گئی۔

افغانستان کی ٹیم کے ساتھ اور بھی غیر ملکی کوچ ہیں اور نور محمد کو قوی امید ہے کہ ان کی ٹیم مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ اگلے سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ہونے والی عالمی کپ میں ان کی ٹیم شرکت کرنے کے لیے نہیں جا رہی بلکہ وہ یہ مقابلے جیتنے کے لیے جا رہی ہے۔

اینڈی مولز افغان ٹیم کے ساتھ کچھ تربیتی سیشن گزارنے کے بعد ٹیم کی صلاحیتوں سے کافی متاثر ہوئے۔ اینڈی مولز کے پاس 20 کھلاڑیوں پر مشتمل دستے کی تربیت کرنے کے لیے چھ ماہ کا عرصہ ہے اور اس دوران ٹیم زیادہ تر وقت آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں گزارے گی۔

انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں سے تعلق نہ رکھنے والے پیشہ ور کھلاڑیوں کا بنیادی طور پر یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ انھیں کتنی کرکٹ کھیلنے کو ملتی ہے۔ اینڈی کے مطابق افغانستان کے کھلاڑیوں کے ساتھ صورت حال بالکل مختلف ہے۔

افغانستان کی ٹیم دنیا بھر کی ٹیموں اس وقت گیارہوں نمبر پر ہے۔ لیکن ماضی میں انھوں نے پاکستان سمیت کئی بڑی بڑی ٹیموں کے خلاف میچ جیتے ہیں۔ اگلے سال ہونے والے عالمی کپ میں ان کا پہلا ہدف پہلی آٹھ ٹیموں میں آنا ہے۔

اسی بارے میں