حجاب پہننے کی اجازت نہ ملنے پر میچ چھوڑ دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کھیلوں کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے حال ہی میں نرم کیے گئے ضوابط کے نفاذ کے بارے میں کنفیوژن انچن میں ہونے والے مسائل کا باعث ہو سکتی ہیں

انچن میں کھیلے جانے والے ایشیئن گیمز میں اس وقت عجیب صورتِ حال پیدا ہو گئی جب قطر کی خواتین باسکٹ بال ٹیم نے حجاب پہننے کی اجازت نہ ملنے پر منگولیا کے خلاف میچ چھوڑ دیا۔

اطلاعات کے مطابق قطر کی خواتین باسکٹ بال ٹیم حجاب پہننے کی اجازت نہ ملنے پر ٹورنامنٹ سے دستبردار ہونے کا سوچ رہی ہے۔

انچن میں اٹھ کھڑے ہونے والے مسائل کا باعث کھیلوں کی بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے حال ہی میں نرم کیے گئے ضوابط کے نفاذ کے بارے میں کنفیوژن ہو سکتی ہے۔

ایشیئن گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کی خاتون ترجمان آنا جہیون یو نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ قطر کی خواتین باسکٹ بال ٹیم نے میچ شروع ہونے سے قبل حجاب اتارنے سے انکار کر دیا۔

خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ میچ شروع ہونے کے مقررہ دس منٹ بعد ہی انتظامیہ نے میچ ختم کرنے کا اعلان کر کے منگولیا کو فاتح قرار دے دیا۔

آنا جہیون یو نے مزید کہا کہ میچ کے حکام کو سر ڈھاپنے کے حوالے سے کوئی احکامات نہیں ملے تھے اور وہ صرف اور صرف قوانین پر عمل درآمد کر رہے تھے جس کے مطابق میچ کے دوران سر پر ٹوپی، سر پر لگانے والے دیگر لوازمات اور جیولری کا استعمال منع ہے۔

ایشیئن گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کی خاتون ترجمان کے مطابق کمیٹی کھیلوں کے قوانین میں ملوث نہیں ہے اور میچ حکام کو انٹرنیشنل باسکٹ بال فیڈریشن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

دوسری جانب قطر کے دستے کی چیف ڈی مشن خلیل الجابر نے آرگنائزنگ کمیٹی کے اس فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی خواتین ٹیم ایشیئن گیمز میں اس وقت نہیں باسکٹ بال نہیں کھیلے گی جب تک اسے حجاب پہننے کی اجازت نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا: ’ہمیں اس بات کی امید تھی کہ ہماری خواتین کھلاڑی حجاب پہن کر ہی باسکٹ بال کھیلیں گی اور ہم اس لیے یہاں آئے تھے، ہمیں کسی نے بھی نہیں بتایا کہ ہماری ٹیم حجاب پہن کر نہیں کھیل سکتی، ہم اس بارے میں ابھی تک وضاحت کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب ایشیئن گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی نے دیگر مقابلوں میں حجاب پہن کر کھیلنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ان مقابلوں میں بیڈمنٹن، شوٹنگ، ٹریک اینڈ فیلڈ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ کھیلوں کے تمام قوانین کو ان کے متعلقہ بین الاقوامی فیڈریشن کی جانب سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور بہت سے مقابلوں کے دوران بعض کھلاڑیوں کے لیے سر ڈھانپنے کی اجازت ہے۔

اسی بارے میں