سنچری کے بغیر 72 اننگز اور ڈراپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔۔۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے اور ٹی 20 مقابلوں کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کیا ہے اور ون ڈے ٹیم میں یونس خان کو شامل نہیں کیا گیا

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں یونس خان کو شامل نہ کیے جانے پر سلیکٹرز کو تنقید کا سامنا ہے۔

خود یونس خان نے صرف ایک اننگز کے بعد ٹیم سے ڈراپ کیے جانے پر سلیکٹرز اور کوچ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

یونس خان سری لنکا کے خلاف ون ڈے ٹیم میں شامل کیے گئے تھے لیکن ایک میچ کھیلنے کے بعد انھیں اپنے بھتیجے کے انتقال پر وطن واپس آنا پڑا تھا یوں وہ کافی عرصے بعد ون ڈے ٹیم میں واپسی کے موقعے سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہے تھے۔

چیف سلیکٹر معین خان کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہتے ہیں اور یونس خان فی الحال اس منصوبہ بندی میں پورے ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یونس خان پر ون ڈے کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔

یونس خان کے ون ڈے ٹیم سے اخراج پر اس وقت خاصی جذباتی صورتحال موجود ہے اور اس اخراج کو اس انداز سے دیکھا جا رہا ہے کہ جیسے ان کا بین الاقوامی کریئر ہی ختم ہوگیا ہو۔

یونس خان 2000ء سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ ان چند بیٹسمینوں میں شامل ہیں جنھوں نے تینوں فارمیٹس میں پاکستان کے لیے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں ۔2009 کا ورلڈ ٹی ٹوئنٹی پاکستان نے انہی کی قیادت میں جیتا تھا جس کے اختتام پر یونس خان نے ٹی ٹوئنٹی کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یونس خان ٹیسٹ کرکٹ میں کسی دشواری کے بغیر ٹیم میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھے ہوئے ہیں لیکن ون ڈے انٹرنیشنل میں ان کی کارکردگی اتارچڑھاؤ کا شکار رہی ہے ۔

یونس خان نے254 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں چھ سنچریاں سکور کی ہیں۔ انھیں اپنی پہلی ون ڈے سنچری کے لیے99 اننگز تک طویل اور صبر آزما انتظار کرنا پڑا تھا جو ان کا ون ڈے کریئر شروع ہونے کے دو سال بعد ہانگ کانگ کے خلاف کولمبو میں بنی تھی۔

یونس خان نے اپنی دوسری سنچری 32 مزید اننگز کھیلنے کے بعد سکور کی تھی۔

اپنی تیسری سنچری سکور کرنے کے لیے انھیں مزید 20 اننگز انتظار کرنا پڑا تھا البتہ آخری تین سنچریاں انہوں نے صرف آٹھ اننگز میں بنائیں۔

یونس خان نے اپنی چھٹی اور تاحال آخری ون ڈے سنچری نومبر 2008 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ابوظہبی میں سکور کی تھی لیکن اس کے بعد سے وہ 72 اننگز میں ایک بھی سنچری سکور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

قابل ذ کر بات یہ ہے کہ یونس خان نے اپنی آخری 20 ون ڈے اننگز میں صرف تین نصف سنچریاں بنائی ہیں۔

اس غیرمستقل مزاجی کی وجہ سے انھیں گذشتہ سال جنوبی افریقہ کے دورے کے بعد ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔

اس سال سینٹرل کنٹریکٹ میں انھیں بی کیٹگری دیے جانے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انھیں اے کیٹگری میں ترقی دے دی جس کے بعد وہ سری لنکا کے دورے میں ون ڈے ٹیم کا حصہ بنا دیے گئے تھے۔

یونس خان کی دیرینہ خواہش آئندہ سال ورلڈ کپ کھیلنے کی ہے تاہم ورلڈ کپ اور آسٹریلوی سرزمین دونوں ان کے لیے کامیاب نہیں رہے ہیں ۔

یونس خان نے اب تک تین عالمی کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور 15 اننگز میں وہ صرف دو نصف سنچریاں سکور کرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

یونس خان نے آسٹریلیا میں کھیلے گئے نو ون ڈے میچوں میں صرف ایک نصف سنچری سکور کی ہے جبکہ نیوزی لینڈ میں پانچ میچوں میں ان کی کوئی نصف سنچری نہیں ہے۔

اسی بارے میں