’مصباح کو جوش اور آفریدی کو ہوش کی ضرورت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اگلا امتحان آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز ہے

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ وقار یونس کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ اس وقت دونوں کپتان مصباح الحق اور شاہد آفریدی فارم میں نہیں ہیں اور دونوں کو اپنی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے اپنی بیٹنگ کا انداز تبدیل کرنا پڑے گا۔

وقاریونس کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو تیز کھیلنا ہوگا اور آفریدی کو اپنی بیٹنگ میں ٹھہراؤ لانا ہوگا۔

وقاریونس نے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ مصباح الحق کے بیٹنگ اسٹائل کے قطعاً خلاف نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق نے اسی سٹائل میں کھیلتے ہوئے بین الاقوامی کرکٹ میں بے پناہ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن کوچ کی حیثیت سے جب وہ ٹیم کی مجموعی کارکردگی دیکھتے ہیں تو انھیں سٹرائیک ریٹ سست دکھائی دیتا ہے اس میں تیزی لانے کے لیے کپتان کو پہل کرنی ہوگی کیونکہ کپتان ہی اپنی کارکردگی سے ٹیم کے لیے مثال قائم کرتا ہے اور دوسرے اس کی تقلید کرتے ہیں۔

وقاریونس نے کہا کہ شاہد آفریدی کو بھی بیٹنگ میں ٹھہراؤ پیدا کرنا ہوگا۔ مصباح الحق اور شاہد آفریدی دونوں وسیع تجربے کے حامل بلے باز ہیں اور وہ خود کو ہر طرح کی صورتِ حال کے مطابق ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ بلے باز اپنے خول سے باہر نکلیں اور مثبت اور جارحانہ کرکٹ کھیلیں جس کے لیے پاکستانی کرکٹ شہرت رکھتی ہے۔

انھوں نے سری لنکا کے خلاف کولمبو کے دوسرے ٹیسٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس میچ میں اگرچہ پاکستانی بلے بازوں نے وکٹیں گنوائیں اور میچ بھی ہارا لیکن ان کی بیٹنگ مثبت دکھائی دی تھی۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اگلا امتحان آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہونے والی سیریز ہے جس میں اسے ایک ٹی ٹوئنٹی تین ون ڈے اور دو ٹیسٹ میچز کھیلنے ہیں۔

اسی بارے میں