پیٹرسن ’دھونس‘ کے الزامات پر قائم

کیون پیٹرسن تصویر کے کاپی رائٹ Press Association
Image caption کیون پیٹرسن دعویٰ کرتے ہیں کہ انگلینڈ کے ڈریسنگ روم کو ایک ’خصوصی کلب‘ چلاتا ہے

کیون پیٹرسن نے کہا ہے کہ وہ انگلینڈ کے کیمپ میں بلیئنگ یعنی دھونس کے الزامات پر قائم ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے کئی مرتبہ سابق کوچ اینڈی فلاور سے اپنی اس تشویش کا اظہار کیا تھا۔

کیون پیٹرسن کے سابق ساتھی گریم سمتھ نے ان کے الزامات کو لغو کہا ہے جبکہ انگلینڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر پال ڈاؤنٹن نے کہا ہے کہ انھیں ایسی کسی شکایات کا علم نہیں ہے۔

پیٹرسن نے بی بی سی کے ریڈیو 5 لائیو کو بتایا کہ ’ایسا ہوا تھا۔ جو کچھ اس کتاب میں ہے میں اس پر سو فیصد قائم ہوں۔‘

’اینڈی کو اس کے بارے میں پتہ ہے۔ میں ان سے دن رات یہ کہتا رہتا تھا۔‘

پیٹرسن نے کہا کہ انھیں سابق ٹیم کے کھلاڑی اینڈریو سٹراس کے متعلق جنوبی افریقی کھلاڑیوں کو ٹیکسٹ میسیج بھیجنے پر افسوس ہے۔ لیکن انھوں نے اس سے انکار کیا کہ اس میں کوئی اہم معلومات تھیں۔

’یہ بالکل فضول بات ہے ، بالکل واہیات۔ یہ آپ کے پیشے کے دل پر چوٹ ہے۔ یہ ایسی چیز نہیں جو میں کروں، یہ میرے لیے نوگو ایریا ہے۔‘

پیٹرسن جنھوں نے فروری میں ٹیم سے نکالنے جانے سے پہلے 104 ٹیسٹ میچوں میں 47 کی اوسط سے 8181 رنز بنائے ہیں دعویٰ کرتے ہیں کہ انگلینڈ کے باؤلر سٹورٹ براڈ اور سوان اس خصوصی کلب کے مرکزی کردار ہیں جس کی انگلینڈ کے ڈریسنگ روم پر اجارہ داری ہے۔

انھوں نے جمعرات کو شائع ہونے والی کتاب میں کہا کہ جو بھی اس ’خاص گروہ‘ سے باہر تھے ان کا مذاق اڑایا جاتا اور ان پر دھونس جمائی جاتی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کسی دوسرے نے اس بارے میں شکایت کیوں نہیں کی تو انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے کی تھی، انھوں نے کوچ اور کپتان سے شکایت کی تھی اور بنگلور میں ایک روزہ بین الاقوامی میچ سے ایک دن پہلے انھوں نے ٹیم سے بات کی تھی۔‘

’لیکن سوان اور براڈ نے کپتان کے ساتھ اختلاف کیا اور کہا: ’نہیں، ہم سے معافی مانگیں، ہم سے معافی مانگی جائے۔‘

پیٹرسن نے کہا کہ انھوں نے کتاب اس لیے لکھی ہے کہ وہ اپنے کردار پر برسوں سے کیے جانے والے حملوں کے بعد اپنا مدعا بھی بیان کریں۔

اسی بارے میں