شہریار کی تنبیہ کام آگئی ، آفریدی نے مصباح کو کپتان مان لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آفریدی پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کے فوراً بعد شاہد آفریدی کرکٹ کی اصطلاح میں’ بیک فٹ ‛ پر آگئے اور انہوں نے اپنے بیان میں مصباح الحق کی کپتانی کی حمایت کردی۔

یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے مصباح الحق کی جگہ آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ون ڈے میں کپتانی کی تھی اور میچ کے اختتام پر انہوں نے کرکٹ بورڈ سے کہا تھا کہ کرکٹ بورڈ اگر مصباح یا انہیں کپتان بنانا چاہتا ہے تو فوری طور پر بتادے تاکہ وہ اپنی تیاری کرسکیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان نے شاہد آفریدی کے بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس بیان کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے تناظر میں جائزہ لیا جارہا ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ شاہد آفریدی نے اس بیان کے بارے میں شہریارخان سے رابطہ کیا اور اس معاملے پر وضاحت پیش کی۔

شاہد آفریدی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مصباح الحق ورلڈ کپ کے لیے کپتان کے طور پر بہترین انتخاب ہیں اور وہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ مصباح الحق کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مصباح الحق کے ساتھ تعاون کیا ہے اور جب وہ کپتان تھے مصباح نے بھی ان کے ساتھ یہی انداز اختیار کیا۔

دوسری جانب سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے شاہد آفریدی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پختگی کا مظاہرہ کریں ۔ بیانات بدلنے کا یوٹرن بار بار نہ لیں اس سے ان کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔

شعیب اختر کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شاہد آفریدی کو شٹ اپ کال دی ہے اب انہیں چاہیے کہ وہ اپنے کھیل پر مکمل توجہ دیں ۔وہ ایک بہترین کھلاڑی ہیں جو ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔

شعیب اختر نے مصباح الحق کو بھی مشورہ دیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے جانب بھرپور حمایت ملنے کے بعد اب وہ اپنے اندر دلیری پیدا کریں ٹیم سلیکشن میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلائیں اور مکمل ذمہ داری دکھائیں کیونکہ اگر اب بھی انہوں نے دفاعی انداز اختیار کیا تو پھر وہ کسی سے ہمدردی کی توقع نہ رکھیں ۔

شعیب اختر نے کہا کہ ورلڈ کپ دو ہزار پندرہ کا ہے لیکن پاکستانی کرکٹ میں اگلے پندرہ دنوں کا کسی کو نہیں پتہ ہوتا۔

اسی بارے میں