’مصباح کپتان ہیں،رہیں گے، آفریدی کا بیان غیرذمہ دارانہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ۔۔کرکٹ بورڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آفریدی نے یہ بیان دے کر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریارخان نے شاہد آفریدی کے کپتانی سے متعلق حالیہ بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ مصباح الحق کو کپتانی سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی قیادت کریں گے۔

واضح رہے کہ شاہد آفریدی نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے اور آخری ون ڈے میں پاکستانی ٹیم کی قیادت کی تھی اور میچ کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا ’جو بھی کپتان ہو چاہے وہ مصباح کپتان ہوں انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ انہیں دو ہزار پندرہ کے عالمی کپ میں کپتانی کرنی ہے یا نہیں اور اگر مجھے کپتان بنایا جا رہا ہے تو چیزوں کا پتہ چل جانا چاہیے کیونکہ آپ کے پاس اب اتنا وقت نہیں ہے ۔ورلڈ کپ سے قبل چیزیں اعلان ہوں تاکہ کوئی بھی کپتان ہو وہ اپنا پورا کام کرسکے کہ لڑکوں کے ساتھ کس طرح نمٹنا ہے۔ کیا کام کرنے ہیں۔‘

شہریارخان کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی نے پریس کانفرنس میں غیرذمہ دارانہ باتیں کی ہیں۔کرکٹ بورڈ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آفریدی نے یہ بیان دے کر ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی تو نہیں کی؟ اور اگر کی ہے تو ان کے خلاف کیا کارروائی عمل میں آسکتی ہے؟ تاہم بورڈ ابھی تک کسی فیصلے پر نہیں پہنچا ہے۔

شہریارخان نے کہا کہ شاہد آفریدی کے بیان سے لوگوں میں شکوک وشبہات نے جنم لیا اور وہ سوچ رہے تھے کہ کہیں کوئی انتشار تو نہیں ۔

شہریارخان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مصباح الحق کو ورلڈ کپ تک کپتان بنایا جاچکا ہے اور وہی ٹیم کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے ابوظہبی میں مصباح الحق اور ٹیم منیجمنٹ سے ملاقات بھی کی ہے اور ان تینوں کو اس فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے کہ کپتان کی تبدیلی نہیں ہوگی اور مصباح الحق ہی کپتان رہیں گے۔

شہریارخان نے کہا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ مصباح الحق کو کپتانی سے ہٹایا جا رہا ہے۔ وہ خود اپنی خراب بیٹنگ فارم کی وجہ سے تیسرا ون ڈے نہیں کھیلے تھے اور اس بارے میں انہوں نے ٹیم منیجمنٹ کو بھی بتا دیا تھا۔

شہریارخان نے کہا کہ مصباح الحق ایک تجربہ کار بیٹسمین ہیں اور امید ہے کہ وہ جلد فارم میں آجائیں گے۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی کی بولنگ میں بہتری آئی ہے لیکن بیٹنگ اچھی نہیں ہے تاہم یہ کام سلیکٹرز کا ہے کہ وہ یہ دیکھیں کہ ان کی ٹیم میں جگہ بنتی ہے یا نہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے معنی خیز انداز میں یہ بھی کہا کہ اب تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ آفریدی کپتان بنیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ٹیم میں جگہ رکھنے کے اہل بھی ہیں یا نہیں؟

اسی بارے میں