میچ میں البانیہ کا پرچم گرانے پر سربیا کی مذمت

البانیہ کے جھنڈے کا تنازع تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption میچ کے دوران ڈرون کے ذریعے پھینکے گئے البانوی جھنڈے کو سرب کھلاڑی نے اچھل کر پکڑ لیا

سربیا کے وزیرِ خارجہ اویٹسا ڈاچچ نے کہا ہے کہ البانیہ کے خلاف یورو 2016 کے کوالیفائر میچ میں پھینکے گئے جھنڈے کا واقعہ ایک سیاسی اشتعال ہے۔

بلغراد میں میچ کو 41 منٹ بعد ہی اس وقت روکنا پڑا جب ایک ڈرون سے باندھ کر البانیہ کا جھنڈا پھینکنے کے بعد وہاں لڑائی شروع ہو گئی۔

یوئیفا سربیا اور البانیہ دونوں کے خلاف تادیبی کارروائی کر رہا ہے۔

البانیا کے وزیرِ اعظم کے بھائی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انھیں ڈرون کنٹرول کرنے کے شک میں سرب حکام نے حراست میں لیا تھا۔

اولسی راما نے البانوی ٹی وی چینل سپر سپورٹس کو بتایا کہ ان کی گرفتاری کی خبریں من گھڑت ہیں۔ ایک سرب ٹی وی نے خبر دی تھی کہ انھیں ڈرون پھینکنے کے ماسٹر مائنڈ ہونے کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔

وہ میچ کے بعد بلغراد سے البانیہ واپس آ گئے تھے۔

عام البانوی شائقین کے لیے ان دو ممالک کے درمیان میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں آنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان عداوت کی ایک لمبی تاریخ موجود ہے۔

البانیہ کے وزیرِ اعظم ایدی راما اگلے ہفتے سربیا جانے والے ہیں۔ یہ پچھلے 70 سال میں کسی بھی البانوی رہنما کا سربیا کا پہلا دورہ ہو گا۔

کھیل کو منگل کو ہونے والے میچ کے پہلے ہاف کے اختتام پر روکنا پڑا جب پچ کے درمیان ایک ڈرون آیا جس کے ساتھ البانیہ کے جھنڈے اور نقشے والا ایک بینر لگا ہوا تھا۔ سربیا کے کھلاڑی سٹیفن متروچ نے اچھل کر وہ بینر پکڑ لیا۔ اس بینر میں سرب علاقے پر البانوی دعویٰ دکھایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سرب مداح گراؤنڈ میں داخل ہو گئے اور البانوی کھلاڑیوں کو پیٹنے لگے

اس کے بعد سرب شائقین گراؤنڈ میں داخل ہو گئے اور البانوی کھلاڑیوں کو مارنا شروع کر دیا۔ اس پر انگلش ریفری مارٹن ایٹکنسن دونوں ٹیموں کو گراؤنڈ سے باہر لے گئے۔

30 منٹ کی تاخیر کے بعد میچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔

سربیا کے کپتان برینیسلو ایوانووچ نے کہا کہ البانوی ٹیم جسمانی اور نفسیاتی طور پر کھیلنے کے قابل نہیں تھی۔

سرب وزیرِ خارجہ نے پوچھا کہ اگر کوئی سرب باشندہ البانیہ یا کوسوو میں اس طرح کا کرتب دکھاتا تو بین الاقوامی برادری کا ردِ عمل کیسا ہوتا۔

’اگر سربیا سے کوئی گریٹر سربیا کا جھنڈا ترانا یا پرسٹینا میں بلند کرتا تو یہ فوراً اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر آ جاتا۔‘

یوایفا کے ترجمان پیڈرو پنٹو نے کہا ہے کہ سربیا اور البانیہ کے پاس اس پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے اگلے بدھ تک کا وقت ہے۔

یوایفا کے صدر مائیکل پلاٹینی نے کہا ہے کہ انھیں اس واقعے سے بہت صدمہ پہنچا ہے: ’فٹبال تو لوگوں کو قریب لاتا ہے اور ہمارے کھیل کو کسی قسم کی بھی سیاست کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ گذشتہ شب بلغراد میں نظر آنے والے مناظر ناقابلِ معافی ہیں۔‘

البانیہ کے دارالحکومت پرسٹینا میں بھی منگل کو البانوی ٹیم کے مداح جمع ہو گئے تھے۔ بدھ کو البانوی ٹیم کے ملک واپس پہنچنے پر انھیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ شہر کے ہوائی اڈے کے باہر تقریباً تین ہزار مداح جھنڈے اٹھائے جمع تھے۔

وزیرِ اعظم راما نے بھی ٹوئٹر پر ٹیم کی تعریف کی ہے۔

اسی بارے میں