پاکستان کا بڑا سکور، آسٹریلیا کا پراعتماد آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرفراز احمد نے اپنی دوسری ٹیسٹ سنچری صرف 80 گیندوں پر مکمل کی جو ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی تیسری تیز ترین سنچری ہے

وکٹ کیپر کی حیثیت سے پاکستانی ٹیم میں آنے والے سرفراز احمد منجھے ہوئے بلے باز کے طور پر چھاگئے ہیں۔

یہ ان کی شاندار سنچری ہی ہے جس نے دبئی ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستانی ٹیم کا سکور 454 تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

یہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی تیسری تیز ترین سنچری بھی ہے۔

مصباح الحق اور اسد شفیق سکور کو 291 تک لے گئے ۔ 93 کی یہ اہم شراکت مصباح الحق کے آؤٹ ہونے پر ختم ہوئی۔

وہ 69 رنز بناکر سٹیو سمتھ کی گگلی پر جانسن کو کیچ دے بیٹھے۔

پاکستانی کپتان خود کو اس دباؤ سے نکالنے میں بڑی حد تک کامیاب ہوگئے جو سری لنکا کے دورے اور پھر آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں رنز نہ ہونے کے سبب ان پر قائم ہوا تھا۔

اسد شفیق جو دن کے دوسرے ہی اوورکی پہلی گیند پر ایلکس ڈولن کے ہاتھوں کیچ ہونے سےبچے تھے اپنی عمدہ اننگز کو تین ہندسوں میں تبدیل نہ کرسکے اور 89 رنز بناکر اسٹیو اوکیف کی پہلی ٹیسٹ وکٹ بن گئے۔

اسد شفیق اور سرفراز احمد نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 124 رنز کا اضافہ کیا۔

سرفرازاحمد آندھی کی طرح آئے اور آسٹریلوی بولنگ پر چھاگئے۔ وہ ہر بولر کے خلاف چڑھ کر کھیلے ان کی موجودگی میں رن ریٹ میں بھی اضافہ ہوا اور آسٹریلوی ٹیم کی پریشانی میں بھی۔

انھوں نے اپنی دوسری ٹیسٹ سنچری صرف 80 گیندوں پر مکمل کی جو ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی تیسری تیز ترین سنچری ہے اس سے قبل ماجد خان نے سنہ 1974 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کراچی میں کھانے کے وقفے سے قبل سنچری صرف 74 گیندوں پر مکمل کی تھی۔

شاہد آفریدی نے دو مختلف مواقعوں پر ویسٹ انڈیز اور بھارت کے خلاف سنچری 78 گیندوں پر بنائی تھی۔

سرفراز احمد 14 چوکوں کی مدد سے 109 رنز بناکر نیتھن لائن کی گیند پر ہیڈن کے ہاتھوں سٹمپڈ ہوگئے۔ یہ ان کی پچاس یا اس سے زائد رنز کی مسلسل پانچویں اننگز تھی۔

سری لنکا کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی چار اننگز میں انھوں نے ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں بنائی تھیں۔

آسٹریلوی بولرز کے لیے گرم موسم میں طویل بولنگ کسی طور بھی خوشگوار تجربہ نہ تھا۔ جانسن اور سڈل اگرچہ کفایتی رہے لیکن دونوں سپنرز لائن اور اوکیف کے ناموں کے آگے رنز کی سنچریاں درج ہوئیں۔

آسٹریلوی اننگز شروع ہوئی تو ڈیوڈ وارنر اور کرس راجرز ایک دوسرے سے مختلف روپ میں دکھائی دیے۔

وارنر نے ہاتھ کھولے ہوئے تھے لیکن راجرز دفاعی خول میں بند تھے۔

پاکستانی ٹیم نے وکٹ حاصل کرنے کا موقع اس وقت گنوادیا جب سلپ میں یونس خان نے ذوالفقار بابر کی گیند پر راجرز کا کیچ گرادیا جو اس وقت 13 رنز پر کھیل رہے تھے۔

وارنر نے ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی مسلسل آٹھویں نصف سنچری پچاس گیندوں پر لیگ سپنر یاسر شاہ کو چوکا لگ اکر مکمل کی جنھیں کپتان مصباح الحق 13 ویں اوور میں پہلی بار بولنگ کے لیے لائے تھے۔

کھیل کے اختتام پر آسٹریلیا نے بغیر کسی نقصان کے113 رنز بنائے تھے۔ وارنر 75 اور راجرز 31 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

آسٹریلوی ٹیم پاکستان کے سکور سے اب بھی341 رنز پیچھے ہے۔

اسی بارے میں